اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یورپی ملک لکسمبرگ میں اسکول کی ایک خاتون ٹیچر کو سوشل میڈیا پر فلسطین کی حمایت کرنے پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔
خاتون ٹیچر فاطمہ کرتچ مسلمان ہیں اور وہ بوسنیا میں ہونے والی نسل کشی سے بچ جانے والوں میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فاطمہ کو برطرف کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہےکہ انہوں نے سوشل میڈیا پر غزہ میں بچوں کے قتل پر اسرائیلی حکومت پر تنقید کی تھی اور جنگ سے تباہ حال غزہ پٹی میں اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ مظالم پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
لکسمبرگ کی وزارت قومی تعلیم کا کہنا ہےکہ خاتون ٹیچر کے خلاف یہ فیصلہ ان کی ایسی سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے کیا گیا جنہیں وزارت نے یہود مخالف قرار دیا۔
دوسری جانب فاطمہ کرتچ کا کہنا ہےکہ ان کی پوسٹس یہودیوں کے خلاف نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت اور صیہونیت پر تنقید تھیں، وہ ہمیشہ جنگی جرائم اور بےگناہ شہریوں کے قتل کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ