بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ فضائی نیویگیشن ڈیٹا کی نگرانی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران پر امریکی حملے سعودی عرب، قطر اور امارات کی سرزمینوں پر تعینات امریکی طیاروں کے ذریعے ہو رہے ہیں اور حملوں کے دوران یہ طیارے سرگرم عمل نظر آتے ہیں۔
پرسوں رات ایران کے ساحلی علاقوں پر امریکی جارحیت کے بعد معلوم ہؤا کہ حملوں کا مبدأ علاقائی ریاستوں میں واقع ہے، جن میں قطرمیں امریکی ایئر بیس العدید بھی شامل تھا، جسے نشانہ بنایا گیا؛ خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے پہلے اعلان کیا تھا کہ "ایران پر حملوں کا مبدأ ہمارا جائز ہدف ہے."



ہوا بازی کی نگرانی سے پتہ چلتا ہے کہ کل صبح سویرے ایک قبل از وقت انتباہی طیارہ اور ایئربورن کنٹرول طیارہ سعودی عرب میں امریکی ایئر بیس سے اڑا ہے۔
یہ بوئنگ طیارہ E-3 سینٹری قسم کا ہے اور اسے شناخت، ٹریکنگ اور فضائی کارروائیوں کی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
قطر میں ایئر بیس العدید اس وقت 20 سے زیادہ امریکی KC-135 ریفیولنگ طیاروں کی میزبانی کر رہا ہے، جو امریکی لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
بایں حال، سعودی حکومت دشمن کو اپنی سرزمین سپرد کرنے سے شرمندہ ہونے کے بجائے دعوی کرتی ہے کہ ایران بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اچھی ہمسائیگی کے قواعد کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے، اور قطر بھی ایران کی مذمت کرتا ہے؛ حالانکہ ہمارے اسی خطے میں ایسے ممالک ہیں جو اپنے پڑوسی ملک کو ایک ملک کو اڈے دینے کی نہیں، ایک دہشت گرد ٹولے کے چھپ جانے کی سزا دینے کے لئے، ان پر شدید میزائل اور فضائی حملے کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ