11 جولائی 2026 - 17:21
ایرانی عدلیہ کے سربراہ: امریکہ اور صہیونی حکومت کے جنگی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا

ایران کی عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژہ ای نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، بین الاقوامی قانون دانوں کے تعاون سے امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایرانی عوام کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے ذمہ دار افراد کا تعاقب، ان پر مقدمہ اور انہیں سزا دلوانے کے لیے اپنی قانونی کوششیں جاری رکھے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کی عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژہ ای نے امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایرانی عوام کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے سلسلے میں بین الاقوامی وکلاء اور قانون دانوں کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ وفد میں ایسے ماہرین قانون بھی شامل تھے جنہوں نے ماضی میں صہیونی حکومت کے اعلیٰ حکام کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کی پیروی کی ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محسنی اژہ ای نے کہا کہ عالمی استکباری طاقتیں میڈیا اور پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے اور آزادی پسند اقوام کے خلاف فکری جنگ مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم انصاف پسند قانون دان اس مہم کا مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے دینی اصولوں، آئین اور قانونی ذمہ داریوں کی روشنی میں دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت جاری رکھے گا، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا نسل سے ہو۔ انہوں نے بالخصوص غزہ اور لبنان کے عوام کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صہیونی حکومت پر فلسطین اور لبنان میں کئی دہائیوں سے قتل عام، نسل کشی اور بچوں کے قتل کے الزامات عائد کیے۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے کہا کہ حق اور انصاف کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، اس لیے دنیا بھر کے انصاف پسند وکلاء اور قانون دانوں کو باہمی تعاون کے ذریعے جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔

محسنی اژہ ای نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے اور ایران ان کے ذمہ دار عناصر کا تعاقب، ان پر مقدمہ چلانے اور انہیں ان کے جرائم کے مطابق سزا دلوانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں سے نہ صرف قانونی کارروائی کی جائے گی بلکہ ان سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی طلب کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کے اٹارنی جنرل کا دفتر، عدلیہ کا بین الاقوامی شعبہ اور عدلیہ کے وکلاء مرکز اس مقصد کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ ایران انصاف پسند بین الاقوامی وکلاء اور قانون دانوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے جنگی مجرموں کے احتساب کے لیے ایک نئے مرحلے کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha