اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تونس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر میرمسعود حسینیان نے یونیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ قائدِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع کی تقریب ایک غیر معمولی تاریخی واقعہ تھی، جس نے ایرانی عوام کے دلوں میں ان کے بلند مقام کو آشکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک معمول کی تشییع نہیں بلکہ ایک عظیم دینی و سیاسی رہنما، ممتاز عالمِ دین اور امت کے روحانی باپ کو الوداع کہنے کی تقریب تھی۔
انہوں نے کہا کہ عوام اور اعلیٰ حکام کی بھرپور شرکت اس بات کی واضح علامت ہے کہ ایرانی عوام اپنی قیادت کے ساتھ مضبوط یکجہتی رکھتے ہیں۔
ایرانی سفیر نے بتایا کہ تقریب میں تقریباً 100 ممالک کے سرکاری، عوامی اور مذہبی وفود نے شرکت کی۔ انہوں نے تونس کی جانب سے اس ملک کے مفتی کی نمائندگی میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ قائدِ شہید کے بین الاقوامی مقام کا واضح ثبوت ہے۔
میرمسعود حسینیان نے کہا کہ ملک کو درپیش مشکلات کے باوجود عوام کی وسیع شرکت نے ثابت کر دیا کہ ایران مضبوط ریاستی اداروں کا حامل ملک ہے اور نئے رہبرِ انقلاب اسلامی، انقلاب کے راستے کو جاری رکھیں گے۔
انہوں نے ایران سے باہر ہونے والی تشییعی تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں بھی قائدِ شہید کی تشییع کے مراسم منعقد ہوئے، جن کے انعقاد کے لیے بغداد اور تہران کے درمیان مکمل ہم آہنگی رہی، جبکہ ان تقریبات کے انتظامات کی ذمہ داری عراقی حکومت نے سنبھالی۔
عراق کے عوام کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ان کے دل میں عراقی عوام کے لیے گہری محبت ہے۔ انہوں نے کربلا میں ایران کے سابق قونصل جنرل کی حیثیت سے اپنی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عراق کے تعلقات جغرافیائی سرحدوں سے کہیں بڑھ کر مذہبی اور عوامی رشتوں پر استوار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں ایرانی زائرین امام حسینؑ کے اربعین کے موقع پر عراق کا رخ کریں گے، جو دونوں ممالک کے درمیان دینی اور عوامی تعلقات کی گہرائی کی علامت ہے۔
میرمسعود حسینیان نے قائدِ شہید امام سید علی خامنہ ایؒ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ گزشتہ برسوں کے دوران انہیں کئی مرتبہ ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ شہید کی عطا کردہ انگوٹھی آج بھی ان کے پاس محفوظ ہے، جبکہ تشییع کی تقریب میں شرکت نہ کر سکنے پر انہوں نے گہرے رنج کا اظہار کیا۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی ہمیشہ مستضعفین کی حمایت پر مبنی رہی ہے اور "وحدتِ محاذ" ایران کی خارجہ پالیسی کا مستقل اصول ہے، اسی بنیاد پر فلسطین اور لبنان کی حمایت جاری رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تشییع کی تقریب میں غیر ملکی وفود کی شرکت اور مختلف ممالک کی جانب سے یکجہتی کے پیغامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی اور عوامی سطح پر مضبوط مؤقف موجود ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اس تقریب کی کوریج کے لیے بڑی تعداد میں عرب اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندے ایران آئے، جو اس تقریب اور اس کے سیاسی اثرات میں عالمی دلچسپی کا واضح مظہر ہے۔
آپ کا تبصرہ