اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق میں قائدِ شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ایؒ کی تشییع کے انتظامات اور منصوبہ بندی کے لیے قائم اعلیٰ کمیٹی نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں منعقد ہونے والی تشییعی تقریبات میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کے سربراہ اور اعلیٰ کمیٹی کے چیئرمین احسان یاسین العوادی نے ایک بیان میں کہا کہ عالمِ اسلام اور دنیا بھر کے عوام نے گہرے رنج و غم کے ساتھ نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں قائدِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع کے مراسم کا مشاہدہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس عظیم اجتماع کے انعقاد کے لیے ذمہ داری ملنے کے فوری بعد ایرانی حکام، مقامی حکومتوں، روضۂ علوی، روضۂ حسینی اور روضۂ عباسی کے ذمہ داران، مشترکہ آپریشن کمانڈ، سکیورٹی اداروں، خدماتی محکموں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل اجلاس منعقد کیے گئے اور ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا گیا۔
العوادی کے مطابق اس منصوبے میں خصوصی کمیٹیوں کی تشکیل، ہجوم کے نظم و نسق کے لیے مختلف حکمت عملیوں کی تیاری، عزاداروں اور تشییع میں شریک افراد کی نقل و حرکت کا انتظام، راستوں کی سکیورٹی، ضروری سہولیات کی فراہمی اور تمام انتظامی و سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ رکھنا شامل تھا۔ اس کے علاوہ حسینی موکبوں اور ہزاروں رضاکاروں نے بھی انتظامات میں بھرپور کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ نجف اور کربلا میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کی موجودگی کے باوجود تمام منصوبے کامیابی کے ساتھ نافذ کیے گئے اور تقریبات مکمل نظم و ضبط کے ساتھ اختتام پذیر ہوئیں۔ ان کے بقول کسی قسم کا قابلِ ذکر سکیورٹی واقعہ یا حادثہ پیش نہیں آیا، جو مختلف اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی، عوامی تعاون اور سکیورٹی و انتظامی عملے کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔
احسان یاسین العوادی نے تمام سرکاری اداروں، مقدس روضوں، سکیورٹی اور فوجی فورسز بالخصوص الحشد الشعبی، طبی و خدماتی عملے، حسینی موکبوں، ہزاروں رضاکاروں اور عراقی عوام کا اس عظیم تقریب کے کامیاب انعقاد میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قائدِ شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ایؒ اور ان کے خاندان کے چار شہید افراد کے پیکر جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے نجف اشرف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ایران کے شہر مشہد مقدس روانہ کیے گئے۔
آپ کا تبصرہ