اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، زہرا صالحی فر نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ تہران نے آج صرف اپنے رہبرِ شہید کو رخصت نہیں کیا بلکہ غم کو عزم میں بدلنے کا منظر پیش کیا۔ ان کے مطابق دارالحکومت کی سڑکوں پر لہراتے سرخ پرچم اس بات کی علامت تھے کہ عوام ظلم کے خلاف اپنی مزاحمت اور خونِ مظلوم کے مطالبۂ انصاف پر قائم ہیں۔
مصنفہ لکھتی ہیں کہ دماوند اسٹریٹ سے میدانِ آزادی تک جہاں بھی نظر جاتی تھی، عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دکھائی دیتا تھا۔ ان کے مطابق لاکھوں افراد اپنے رہبرِ شہید کو الوداع کہنے آئے تھے، لیکن اس عظیم اجتماع میں سب سے نمایاں منظر سرخ پرچموں کی کثرت تھی، جنہیں انہوں نے خونِ مظلوم کے انصاف کی علامت قرار دیا۔
سرخ پرچم؛ خونِ مظلوم کے انصاف کی علامت
مصنفہ کے مطابق اسلامی روایت میں سرخ پرچم خونِ مظلوم کے مطالبۂ انصاف اور قصاص کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس کی مثال واقعۂ کربلا کے بعد مختار ثقفی کی تحریک سے دیتے ہوئے لکھا کہ مختار نے ظلم کے خلاف قیام کیا اور قاتلانِ امام حسینؑ کو انجام تک پہنچا کر یہ ثابت کیا کہ مظلوم کے خون کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
مصنفہ لکھتی ہیں کہ آج بھی بہت سے لوگ اسی تاریخی علامت کو ظلم کے خلاف مزاحمت اور مظلوموں کے حق کے مطالبے سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے بقول ایرانی عوام خود کو اسی تاریخی تسلسل کا وارث سمجھتے ہیں اور انصاف کے قیام کے لیے ایک نئے مختار کے منتظر ہیں۔
سوگ سے استقامت تک کا سفر
زہرا صالحی فر کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے قوم غم اور صدمے کی کیفیت میں ہے، تاہم یہ غم اب استقامت، مزاحمت اور عزم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ان کے نزدیک عوام اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مظلوموں کے خون کا مطالبۂ انصاف اس وقت تک باقی رہے گا جب تک ذمہ داروں کا احتساب نہیں ہو جاتا۔
مصنفہ نے مضمون کے اختتام پر لکھا کہ سرخ پرچم امتِ مسلمہ کے اتحاد، استقامت اور ظلم کے خلاف مسلسل جدوجہد کی علامت ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ مظلوموں کے حقوق اور انصاف کے مطالبے کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
مصنفہ:
زہرا صالحی فر، ماہرِ قرآن و حدیث اور باقرالعلوم یونیورسٹی میں میڈیا مینجمنٹ کی طالبہ۔
آپ کا تبصرہ