8 جولائی 2026 - 18:35
جوزف عون: لبنان کو تباہی سے بچانے کے لیے اسرائیل سے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا

لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ملک کو بحرانی صورتحال اور تباہی کے دہانے پر پہنچنے سے بچانے کے لیے اسرائیلی حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران انہیں 21 جولائی کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی باضابطہ دعوت بھی موصول ہوئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ انہوں نے اس لیے کیا تاکہ لبنان کو بحرانی حالات اور تباہی کے دہانے پر پہنچنے سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے کہا، "میں نے مذاکرات کا راستہ اس لیے اختیار کیا تاکہ ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنے سے روکا جا سکے۔"

جوزف عون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنانی حکومت اسرائیلی حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے اپنے فیصلے پر بدستور قائم ہے اور اس عمل کو آگے بڑھائے گی۔

دریں اثنا، واشنگٹن میں لبنان کے سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے جوزف عون کو باضابطہ طور پر امریکہ کے دورے اور 21 جولائی (30 تیر) کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی دعوت دی ہے۔

سفارت خانے کے بیان کے مطابق، یہ دعوت دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کی عکاسی کرتی ہے اور اس موقع پر دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور لبنان کی خودمختاری، استحکام، علاقائی سالمیت اور ریاستی اداروں کے لیے امریکی حمایت سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ ماہ لبنان اور اسرائیلی حکومت نے امریکی ثالثی میں ایک "فریم ورک معاہدے" پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کا خاتمہ بتایا گیا تھا۔ یہ معاہدہ واشنگٹن میں دونوں فریقوں کے درمیان کئی ادوار کے براہِ راست مذاکرات کے بعد طے پایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، جوزف عون اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد، لبنانی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا، جنوبی لبنان میں حکومتی عملداری کے قیام اور معاہدے کے نفاذ کے طریقۂ کار پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

تاہم اس معاہدے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدے کی قانونی حیثیت واضح نہیں ہے اور اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے کوئی واضح ٹائم فریم بھی مقرر نہیں کیا گیا۔

ادھر اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ہفتے اٹلی کے شہر روم میں لبنان کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور منعقد ہوگا، تاہم لبنانی حکام نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

ایک لبنانی ذریعے نے اخبار نیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہمیں اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ یہ دعویٰ اسرائیلی حکام کی جانب سے کیا گیا ہے، لیکن ہمیں اس بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔" ذریعے نے مزید بتایا کہ اطالوی حکام بھی اسرائیل کی جانب سے اس اعلان پر حیران ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha