وہائٹ ہاؤس کےترجمان رابرٹ گیٹس نے افغان صدرکے حالیہ بیانات کوتشویشناک اورحیران کن قراردیاہے۔رابرٹ گیٹس نےکہاکہ حامدکرزئی اگراپنےمغرب مخالف بیان کاسلسلہ جاری رکھیں گےتوممکن ہے آئندہ مہینےواشنگٹن میں باراک اوباما سےان کی ملاقات منسوخ ہوجائے۔باراک اوباما نے گذشتہ ہفتےاپنے پہلے دورہ کابل کےموقع پرحامدکرزئی کو وہائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دی تھی۔افغانستان کےداخلی امورمیں اغیارکی مداخلت کےبارےمیں حامدکرزئی کےبیانات پرامریکی حکام کاردعمل وہائٹ ہاؤس تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ امریکی کانگریس کےرکن جین ہرمن نے باراک اوباما سے مطالبہ کیاہے کہ وہ کرزئی حکومت کےساتھ اپنےتعلقات کاجائزہ لیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ طالبان کےساتھ جنگ میں مناسب اتحادی ہیں یانہیں۔افغانستان میں اغیارکی تباہ کن مداخلت کےبارےمیں افغان صدر کےبیانات نےافغانستان میں امریکی پالیسیوں کوچیلنج کردیاہے، امریکی حکومت کوشش کررہی ہے کہ امریکی رائےعامہ اورعالمی برادری کویہ یقین دلائے کہ افغانستان میں نیٹو اورامریکی فوجیوں کی تعیناتی افغانستان میں قیام امن اوردہشتگردی کےخلاف جنگ کےلئے ہے لیکن حامدکرزئی کےبیانات سےواضح ہوتاہے کہ امریکہ کی طویل مدت پالیسی کامقصد افغانستان میں ایک وابستہ اور امریکی پالیسیوں کی تابع محض حکومت برسراقتدار رکھناہے اور امریکی حکام، افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے اپنے ملک میں اغیارکی پالیسیوں سے اس طرح کھل کرپردہ اٹھائےجانے پرحیران انگشت بدنداں ہیں۔
....
/110