
جس کے دوران نیا آئین تشکیل اور الیکشن کیلئے حالات سازگار بنائے جائیں گے۔ انہوں نے مفرور صدرقربان بیگ باقی اف کے روپوش ہونےکی جگہ کے بارے میں لاعلمی کا اظہارکرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ بھی وزیراعظم کی طرح مستعفی ہوجائیں جبکہ بعض اطلاعات میں یہ کہا گیا ہے کہ انھوں نے بھی استعفاء دے دیا ہے اپوزیشن رہنما بائیوانے پارلیمان کوبھی تحلیل کردیا ہے ۔ اس سے پہلے اپوزیشن نے پارلیمنٹ اور سرکاری دفاتر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور دعویٰ کیا کہ ہنگاموں میں سو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔مگر سرکاری حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 47 بتائی ہیں۔ پرتشدد واقعات کے بعد افغانستان میں نیٹو سپلائی کیلئے انتہائی اہم امریکی ایئربیسManas سے پروازیں معطل کردی گئیں۔ قرقیزستان میں امریکی فوجی اڈہ فوری طورپربند کردیا امریکہ نے قرقیزستان کی اس صورت حال پراپنی تشویشش کا اظہارکیا ہے جبکہ روس نے محتاط اندازمیں کہا ہے کہ اس ملک کے حالات کافی بگڑگئے تھے روس کا کہنا ہے کہ بغاوت میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں۔ اور یہ صورت حال قرقیز حکومت کےخلاف پائے جانے والے شدید عوامی غم وغصے کو ظاہر کرتی ہے۔ ۔۔۔۔قرقیزستان کی حکومت امریکہ نوازی کی بھینٹ چڑھ گئی وسطی ایشیاء کی جمہوریہ قرقیزستان میں گذشتہ کئی دنوں سے جاری اپوزیشن کے پرتشدد مظاہروں کے بعد اس ملک کے صدرقربان بیگ باقی اف ملک دارالحکومت بیشکک سے فرار ہوگئے ہیں اورملک کے تمام اداروں پراپوزیشن نے قبضہ کرکے عبوری حکومت تشکیل دی ہے۔اپوزیشن لیڈرنے پارلیمان تحلیل کردی ہے اورملک کا نظم ونسق اپنے ہاتھ میں لےلیا ہے انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ ملک میں بنیادی آئین میں اصلاح کرنےکے بعد آئندہ چھ مہینوں میں انتخابات کرائیں گے۔عبوری حکومت کے سربراہ اوراپوزیشن لیڈر اتانبایوف نے ملک کے عوام سے کہا ہے کہ سابق حکمرانوں خاص طور مفرور درباقی اف کوگرفتارکریں۔یادرہے کہ مارچ 2005 کو امریکہ کی حمایت سے باقی اف نے اس وقت کے قرقیزصدر عسگرآقائف کے خلاف مظاہرے کرکے اقتدار پرقبضہ کرلیا تھا اس وقت اس پوری صورت حال کوویلویٹ انقلاب (مخملی انقلاب) کا نام دیا گیا تھا ۔ قرقیزستان میں صدرکے فرارہوجانے اوراپوزیشن ومظاہرین کے ذریعے حکومت پرقبضہ کئے جانے کے بعد قرقیزستان میں امریکہ کا فوجی اڈہ بند کردیا گیا ہے یہ فوجی اڈہ افغانستان میں امریکہ اورنیٹو کی فوج کے لئے لاجسٹیک سپورٹ فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ امریکہ نے اس صورت حال پرتشویش کا اظہارکیا ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ قر قیزستان میں جوکچھ بھی ہوا ہے وہ حکومت کی پالیسیوں پرعوام کے شدید غم وغصہ کا اظہار ہے۔روس نے ساتھ ہی اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اقتدار کی تبدیلی کے اس عمل میں اس کا کوئی ہاتھ ہے۔ دریں اثناء اپوزیشن لیڈر رزا اتونبایف نے قرقیزستان کی حکومت کی باگ ڈورسنبھالنے کے بعد سب سے پہلے روس کے وزیراعظم ولادیمیرپیوٹن سے ٹیلی فون پربات چیت کی ہے۔ ادھر امریکی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ امریکی حکام نے قرقیزستان کے رہنماؤں سے الگ الگ ٹیلی فون پررابطے کرکے دونوں فریقوں سے کہا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے مسائل کوحل کریں۔اگرچہ امریکی فوجی اڈہ فوری طورپربند کردیا گیا ہے لیکن امریکی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مناس ہوائی اڈہ معمول کے مطابق کام کرتا رہے گا۔ قرقیزستان میں ہونےوالے پرتشدد مظاہروں میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق پچہترافراد مارے جاچکے ہیں جبکہ بیشکک شہر کے تمام اسپتال زخمیوں سے اٹے پڑے ہیں۔واضح رہے کہ قرقیزستان میں یہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہواہے جب اس جمہوریہ کو وسطی ایشیاء کی جمہوریاؤں میں سب سے زیادہ جمہوری ملک کہا جاتا ہے۔اگرچہ قرقیزستان وسطی ایشیاء کی سب سے غریب جمہوریہ شمارہوتی ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ قرقیزستان میں عوامی غم وغصہ کی کئی وجوہات ہیں جہاں اس ملک کے حکمرانوں نے عوام کی معاشی صورت حال کوبہتربنانے میں کوئی موثراقدام نہیں کیا وہیں پـچہترفیصد آبادی مسلم آبادی کے اس ملک کے حکمرانوں کی امریکہ نوازپالیسی بھی عوام کے لئے سخت ناراضگی کا باعث بنی۔قرقیزستان کے عوام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ان کے ملک کوصرف اپنے فوجی اڈے کے طورپرہی استعمال کیا اوراس ملک میں کسی بھی طرح کی سرمایہ کاری کرکے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے گریزکیا اس کے علاوہ قرقیزستان میں امریکہ کے فوجی اڈے ہونے کی وجہ سے امریکی فوجیوں کی طرف سے اس ملک کے عوام کی ثقافت کوبھی نقصان پہنچنے کا خطرہ توتھا ہی ان کے ملک کے داخلی معاملات میں بھی امریکی مداخلت کے امکانات بڑھ جانے کا اندیشہ ظاہرکیا جارہا تھا اوراگرامریکی حکام نے باقی اف کی حکومت گرجانے پراپنی تشویش کا اظہارکیا ہے تووہ اسی تناظرمیں ہے۔اس ملک میں عوام غربت وتنگدستی سے تنگ آچکے ہیں اوران کا مطالبہ ہے کہ ایسی حکومت برسراقتدار آئے جوان کے لئے روٹی کپڑا مکان کا بندوبست کرے اورساتھ ہی اس کی خارجہ پالیسی آزاد اورامریکہ کے اثرسے دور ہو۔ اسی اثناء میں مستعفی وزیراعظم نے روس پرالزام لگایا ہے کہ وہ قرقیزستان کے معاملات میں مداخلت کررہا ہے اورماسکونے اپوزیشن لیڈروں کی حمایت کی ہے جبکہ روسی وزیراعظم نے فوری طورپراس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو کا قرقیزستان کے داخلی معاملات میں کسی طرح کا کوئی دخل نہیں ہے۔اگرچہ اس وقت ملک میں اپوزیشن لیڈروں کے ذریعے ایک عبوری حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہے مگرامریکی حکام کوابھی بھی اس بات کی پوری امید ہے کہ وہ مفرورصدرباقی اف کودوبارہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیں گے۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم ابھی اپنے اس نظریہ پرقائم ہیں کہ باقی اف کی حکومت ہی اس ملک کی اصل حکومت ہے۔اس میں شک نہیں کہ باقی اف کی حکومت کا باقی رہنا ـ جو اب دارالحکومت بیشکک سے فرارہوچکے ہیں ـ امریکہ کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انھوں نے قرقیزستان میں امریکہ کومتعدد فوجی اڈے بنانے کی اجازت دی تھی اوراس سلسلےمیں ان کا امریکہ کے ساتھ فوجی سمجھوتہ بھی ہوا تھا اسی لئے امریکی حکام کواس بات کی تشویش لاحق ہے کہ قرقیزستان میں حکومت کی تبدیلی سے ممکن ہے کہ اس ملک میں امریکی فوجی حکمت عملی کو دھچکا لگے اورساتھ ہی وسطی ایشیاء میں اس کے اثرورسوخ کو بھی نقصان ہو۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ سابق سویت یونین کی نوآزاد وسط ایشیائی جمہوریاوں میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی آبادی ہے اورامریکہ ان مسلمانوں کے خلاف ایک طرح کا خاص معاندانہ منصوبہ لے کرآیا تھا اس لئے اب تاجیکستان ازبکستان قرقیزستان اورترکمنستان جیسی جمہوریاؤں کے عوام جن کی اکثریت مسلمان ہے امریکہ کواس علاقے میں آسانی کے ساتھ پیرجمانے کا موقع نہیں دیں گے۔ علاوہ ازیں گذشتہ چارپانچ برسوں کے دوران امریکہ نے ویلویٹ انقلاب کی آڑمیں اس علاقے میں روس کوکمزورکرنے اورساتھ ہی مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے مقصد سے جوکھیل شروع کیا تھا وہ پہلے سے ناکام ہوتا جارہا ہے۔ یوکرین میں میں اب امریکہ نوازحکومت کا خاتمہ ہوچکا ہے اوریوکرائین کی حکومت ایک بارپھر روس کے ساتھ اچھے تعلقات استوارکرنے میں لگی ہوئی ہے اورجس طرح سے آج قرقیزستان میں حکومت کی تبدیلی کے فورا بعد عبوری سربراہ نے روس کے وزیراعظم ولادیمیرپوتین سے ٹیلی فون پربات چیت کی ہے اس سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ آنےوالی حکومت کا رخ اب واشنگٹن کے بجائے ماسکوکی جانب ہوگا ۔ دوسری طرف اس ملک کے عوام بھی اب کسی بھی حکومت کو اس بات کی آسانی کے ساتھ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ امریکہ کی ایماء اوراشاروں پرکام کرے ۔کیونکہ بیشکک میں لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مفرورصدرقربان بیگ باقی اف کے خلاف عوامی مظاہروں کا دوسرا مرحلہ اس وقت شروع ہوا جب انھیں اس بات کی اطلاع ملی کہ حکومت امریکہ کواپنے یہاں ایک اوربڑا فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ اس خبرکے منظرعام پرآنے کے بعد ہی اپوزیشن جماعتوں نے جوپہلے ہی مہنگائی غربت اوربے روزگاری کے مسائل پراحتجاج کررہے تھے اب حکومت کے خلاف بھرپورمظاہروں کا پروگرام بنایا جوبالآخرامریکہ نوازحکومت کے خاتمے پرمنتج ہوا۔دوسری طرف قرقیزستان میں امریکہ کے ایک اورفوجی اڈے کے قیام کی خبروں کے بعد روس نے بھی پہلے سے زیادہ قرقیزستان کے حالات کوقریب سے دیکھنا شروع کردیا چنانچہ قرقیزستان کے مستعفی وزیراعظم نے یہاں تک کہہ دیا کہ ماسکواپوزیشن جماعتوں کی سرپرستی کررہا ہے۔ یہ تمام حالات اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ قرقیزستان میں حکومت کے خلاف عوام کا غم وغصہ صرف معاشی بدحالی کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت کی امریکہ نوازی کا اس میں بہت بڑا دخل ہے ۔ ........./110