اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کنیسٹ میں اذان کی نشریات محدود کرنے کے بل کی ابتدائی منظوری ایک خطرناک اقدام ہے، جو اسرائیلی حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد اسلامی مقدسات کو نشانہ بنانا، فلسطین کی عرب و اسلامی شناخت کو مٹانا اور بالخصوص مقبوضہ القدس اور مسجد الاقصیٰ میں نئی حقیقت مسلط کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے قوانین اسرائیلی حکومت میں بڑھتے ہوئے انتہا پسند رجحانات اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو یہودی رنگ دینے کے منصوبے کا تسلسل ہیں۔
حماس نے زور دے کر کہا کہ اذان ہمیشہ اسلام کی دائمی علامت اور فلسطین و القدس کی شناخت کا لازمی حصہ رہے گی۔ اسرائیلی حکومت کے قوانین اور اقدامات نہ تو مساجد کی آواز کو خاموش کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس سرزمین کی تاریخی اور دینی شناخت کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
حماس نے فلسطینی عوام، عرب اور اسلامی ممالک، نیز انسانی حقوق اور مذہبی اداروں سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ اقدامات کو مزید مضبوط بنائیں اور مسجد الاقصیٰ، مذہبی آزادی اور فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں۔
آپ کا تبصرہ