اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے ایک بار پھر کہا ہے کہ حکومت ملک میں اسلحے کا اختیار صرف ریاست کے پاس رکھنے کی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹے گی، تاہم حزب اللہ کے ساتھ مسلح تصادم نہیں چاہتی۔
نواف سلام نے حالیہ لبنان۔اسرائیل فریم ورک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی حتمی معاہدہ نہیں بلکہ آئندہ مذاکرات کے لیے ایک ابتدائی فریم ورک ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے میں لبنان کی اولین ترجیح اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے واضح ٹائم لائن طے کرنا ہوگی۔
وزیرِ اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسلحہ صرف ریاستی اداروں کے پاس ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، حکومت حزب اللہ کے ساتھ تصادم کی خواہاں نہیں، لیکن اس اصول سے دستبردار بھی نہیں ہوگی۔
یہ معاملہ لبنان کے اندر مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف کا باعث بنا ہوا ہے، جہاں بعض حلقے حزب اللہ کے ہتھیاروں کو قومی دفاع کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں ریاست کی مکمل عملداری کے لیے تمام مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی حمایت کرتی ہیں۔
آپ کا تبصرہ