اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، الجزیرہ کی فیلڈ اور طبی رپورٹس میں غزہ کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے سنگین انکشافات سامنے لائے گئے ہیں، جن میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے بیانات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متعدد ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ وہ بارہا ایسے بچوں کے کیسز سے دوچار ہوئے جنہیں ایک ہی گولی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان کے ساتھ موجود بالغ افراد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے مطابق 17 ڈاکٹروں نے مختلف اسپتالوں میں اس طرز کے واقعات کی تصدیق کی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، ایک طبی کارکن نے دو ہفتوں کے دوران ایسے پانچ الگ واقعات دیکھے جن میں بچوں کو مبینہ طور پر ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 168 دستاویزی کیسز میں سے 73 بچوں کو سر اور 22 کو سینے میں گولی لگی، جسے ماہرین نے انتہائی درست اور ہدفی نشانہ قرار دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، استعمال ہونے والے جدید فوجی آلات جیسے اسنائپر رائفلز اور کیمروں سے لیس ڈرونز اس حد تک درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ آپریٹر دور سے ہدف کو واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔
رپورٹ میں طبی عملے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کئی مواقع پر ایسے واقعات بھی ریکارڈ ہوئے جہاں بچہ ہدف بنا جبکہ اس کے قریبی افراد محفوظ رہے، جس سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ حملوں کی نوعیت اتفاقی نہیں بلکہ ہدف ہے۔
الجزیرہ نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق اکتوبر 2025 کے بعد بھی غزہ میں 100 سے زائد بچوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غزہ میں بڑی تعداد میں بچے معذوری کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں سینکڑوں نے اعضا کھو دیے ہیں، جبکہ ہزاروں دیگر مستقل معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق یہ صورتحال غزہ میں انسانی بحران کی شدت اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کو ظاہر کرتی ہے۔
آپ کا تبصرہ