اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، طالبان کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ منگل کی شب 30 جون کو اس کے جنگی طیاروں نے بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں داعش اور دیگر مسلح عناصر کے مشترکہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
طالبان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خیبرپختونخوا کے علاقوں قنبرخیل اور چترال کے گرم چشمہ میں بھی داعش اور اس کے حامیوں کے مراکز پر فضائی حملے کیے گئے، جن میں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔ طالبان کے مطابق یہ مراکز افغانستان کے شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
طالبان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ تمام حملے انتہائی درستگی کے ساتھ کیے گئے اور ان کے نتیجے میں کسی بھی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب پاکستانی فوج نے صرف بلوچستان میں حملے کی کوشش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے چار ابتدائی ڈرون فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر شناخت کر کے تباہ کر دیے۔ پاکستانی فوج نے طالبان کے دعوؤں کو عوامی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ہفتے اتوار کی شب پاکستانی فوج نے افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں کارروائیاں کی تھیں۔ اسلام آباد کا دعویٰ تھا کہ ان حملوں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 25 ارکان مارے گئے، جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 36 شہری جاں بحق ہوئے۔
آپ کا تبصرہ