اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ میں بعلبک۔ہرمل کے نمائندوں کے پارلیمانی بلاک کے سربراہ حسین حاج حسن نے حزب اللہ کے متعدد شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لبنان، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ فریم ورک معاہدے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ معاہدہ قومی مفادات سے متصادم ہے اور مزاحمت اسے ہرگز قبول نہیں کرے گی۔
معاہدے کا اصل ہدف مزاحمت کو غیر مسلح کرنا ہے
حسین حاج حسن نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے میں اسرائیلی افواج کے انخلا، بے گھر افراد کی واپسی اور لبنان کی تعمیرِ نو جیسے وعدوں کے مقابلے میں اصل توجہ مزاحمت کو اسلحے سے محروم کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ اسرائیل نے لبنان کے حق میں کوئی واضح اور عملی ضمانت نہیں دی۔
انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت کسی صورت اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
اسرائیل سے مذاکرات آئین کے خلاف ہیں
لبنانی رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ لبنان کے آئین کی روشنی میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور مجوزہ معاہدے کی بعض شقوں کو قبول کرنا قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے لبنان میں غیر ملکی افواج کی ممکنہ موجودگی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ
حسین حاج حسن نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے تحت تیار کیا گیا ہے، جبکہ ایسے متبادل منصوبوں کو نظر انداز کر دیا گیا جو جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے لبنان سے انخلا اور کشیدگی کے خاتمے کا سبب بن سکتے تھے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مزاحمتی محاذ اس معاہدے کو مسترد کرتا ہے اور اس کے بقول یہ منصوبہ عملی طور پر کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
آپ کا تبصرہ