اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبری ویب سائٹ واللا نے رپورٹ دی ہے کہ امریکی فوج مقبوضہ فلسطین کے علاقے نقب میں دفاعی اور جارحانہ فوجی نظام منتقل کرنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر اس منصوبے کی منظوری دی گئی تو اس کا مقصد مغربی ایشیا میں امریکی فوج کی عملی صلاحیت اور موجودگی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت نقب میں موجود ایک فضائی اڈے کو توسیع دی جا سکتی ہے یا پھر وہاں نیا فوجی اڈہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
واللا نے مزید بتایا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) مقبوضہ فلسطین میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے لیے فضائی دفاعی نظام نصب کرنے اور نقب میں فوجی اڈے قائم کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے، تاکہ مغربی ایشیا میں تعینات امریکی افواج کو زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ اس جائزے کے بعد زیر غور آیا ہے کہ خلیج فارس میں واقع امریکی فوجی اڈے ایران یا دیگر فریقوں کے ممکنہ حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں، اس لیے متبادل فوجی انتظامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
نقب جنوبی مقبوضہ فلسطین کا وسیع صحرا ہے، جو مقبوضہ علاقوں کے نصف سے زیادہ رقبے پر مشتمل ہے۔ جغرافیائی اہمیت کے باعث اس علاقے میں پہلے ہی اسرائیلی فوج کے فضائی اڈے، فوجی تنصیبات اور تحقیقی مراکز قائم ہیں۔
آپ کا تبصرہ