28 جون 2026 - 16:42
گارڈین کا دعویٰ: غزہ پیس کونسل عدالتی استثنیٰ اور سرکاری املاک کے استعمال کے خصوصی اختیارات چاہتی ہے

برطانوی اخبار کے مطابق مجوزہ مسودے میں کونسل کے ارکان اور غیر ملکی اہلکاروں کے لیے قانونی تحفظ اور غزہ کی سرکاری املاک کے استعمال کی شقیں شامل ہیں، جبکہ کونسل نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبار گارڈین نے ایک اندرونی مسودے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ پیس کونسل اپنے ارکان، غیر ملکی اہلکاروں اور ٹھیکیداروں کے لیے وسیع عدالتی استثنیٰ اور غزہ کی سرکاری املاک استعمال کرنے کے خصوصی اختیارات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اخبار کے مطابق مجوزہ کونسل کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گارڈین کو موصول ہونے والے چار صفحات پر مشتمل مسودے کے مطابق غزہ پیس کونسل کے ارکان، انتظامی حکام، بین الاقوامی اہلکاروں، فلسطینی ماہرین اور غیر ملکی ٹھیکیداروں کو غزہ میں گرفتاری اور قانونی کارروائی سے وسیع تحفظ دینے کی تجویز شامل ہے۔ مسودے میں کونسل کو اپنی سرگرمیوں کے لیے سرکاری عمارتیں اور دیگر سرکاری املاک بلا معاوضہ استعمال کرنے کی اجازت دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر کسی رکن کا عدالتی استثنیٰ ختم کرنا ہو تو اس کا اختیار کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہوگا، تاہم اس کے لیے کونسل کے ارکان کی اکثریت کی منظوری بھی ضروری ہوگی۔

گارڈین نے متعدد قانونی ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر یہ منصوبہ نافذ ہوا تو کونسل کے ارکان، فوجی اہلکاروں اور غیر ملکی ٹھیکیداروں کے احتساب کے حوالے سے سنگین قانونی سوالات پیدا ہوں گے۔ ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اس مسودے کی بعض شقیں فلسطینیوں کی املاک ان کی رضامندی یا مناسب معاوضے کے بغیر اپنے استعمال میں لانے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں اور اس سے بین الاقوامی قوانین سے ہٹ کر ایک الگ قانونی نظام وجود میں آ سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ پیس کونسل اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے غزہ میں بین الاقوامی فورسز کے اڈے اور لاجسٹک مراکز قائم کرنا چاہتی ہے۔ گارڈین کے مطابق اگرچہ بعض ممالک نے اس منصوبے کے لیے مالی تعاون کا وعدہ کیا ہے، لیکن ان میں سے بیشتر وعدوں پر ابھی تک عمل نہیں ہوا اور اہم معاہدے بھی تاحال طے نہیں پا سکے۔

دوسری جانب غزہ پیس کونسل کے حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کسی کو قانون سے بالاتر استثنیٰ دینے یا غیر معمولی اختیارات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات متعلقہ قوانین اور مقررہ نگرانی کے نظام کے تحت کیے جائیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha