اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے اعلیٰ حکام نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ آئندہ ممکنہ جنگ گزشتہ تنازعات سے بالکل مختلف ہوگی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے حالیہ امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگ کے خاتمے سے متعلق سمجھوتوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع، خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کا مکمل حق رکھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ حملے کے جواب میں ایرانی فورسز نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی خلیج کے جنوبی ساحل پر واقع ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری کریں۔
ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی خلاف ورزی یا خطرے کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کی خودمختاری کے تحت ہے اور تمام بحری جہازوں کو ملکی قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ سابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی نئی جنگ شروع ہوئی تو امریکہ اور اسرائیل کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق آئندہ جنگ ماضی کے “چالیس روزہ معرکوں” جیسی نہیں ہوگی بلکہ ایران جدید عسکری صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں ہوگا۔
آپ کا تبصرہ