اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آیت اللہ سید یاسین موسوی نے آج نماز جمعہ کے خطبوں میں نہضتِ عاشورا کے اعتقادی، سیاسی اور علاقائی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کا قیام اہل بیتؑ کے پیروکاروں کی دینی، سیاسی اور سماجی شناخت کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ عاشورا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ پوری تاریخ میں شیعہ معاشرے کی اعتقادی، سیاسی اور ثقافتی شناخت کی بنیاد رہا ہے۔ ان کے بقول، مکتبِ حسینی کے پیروکار ہمیشہ ظلم، دباؤ اور محرومی کا سامنا کرتے رہے، جس کے باعث امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے قائم کردہ عادلانہ نظامِ حکومت کو مکمل طور پر نافذ ہونے کا موقع نہ مل سکا۔
آیت اللہ موسوی نے کہا کہ عدلِ الٰہی کے قیام اور اسلامی اقدار پر مبنی حکومت کی تشکیل صرف ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ امتِ مسلمہ اور اس کی قیادت کی شرعی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے اصلاحِ معاشرہ، مسلسل جدوجہد اور باشعور و حکیمانہ سیاسی مزاحمت امت کے مفادات کے تحفظ اور اسلام کی پاسداری کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے عراق کی داخلی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی عنوان کے تحت آمریت یا اقتدار کی اجارہ داری کو دوبارہ جنم لینے سے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی عوام کی دہائیوں پر محیط قربانیاں اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ آمریت دوبارہ مسلط ہو یا قومی مفادات پر جماعتی اور ذاتی مفادات کو ترجیح دی جائے۔
امام جمعہ بغداد نے سرکاری اداروں میں مالی اور انتظامی بدعنوانی کے تسلسل پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے کرپشن اسکینڈلز کے مسلسل منظر عام پر آنے کے بعد ضروری ہے کہ تمام ملوث افراد کو، ان کے عہدے یا حیثیت سے قطع نظر، قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انہوں نے عراق کے تیل اور معیشت سے متعلق معاملات کا ذکر کرتے ہوئے بعض غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے تیل کے معاہدوں پر بھی تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ ان میں سے بعض معاہدے عراق کے قومی مفادات سے ہم آہنگ نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی وسائل اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ان معاہدوں پر نظرثانی کی جائے۔
آیت اللہ موسوی نے خطبے کے دوران خطے کی تازہ صورتحال اور ایران و امریکہ کے تعلقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ علاقائی مفاہمتیں اہم تزویراتی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل قریب میں نمایاں ہوں گے۔
انہوں نے لبنان کی صورتحال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود مزاحمتی قوتوں کی استقامت کو سراہا۔
اپنے خطبے کے اختتام پر آیت اللہ سید یاسین موسوی نے عاشورا کے روحانی پیغام اور ثقافتِ انتظار کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے مؤمنین کو امید، مسلسل جدوجہد، حق کی نصرت کے لیے آمادگی اور عدل کے قیام کی تلقین کی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسلامی ممالک کو فتنوں اور جنگوں سے محفوظ رکھے، خطے کے عوام کو امن، استحکام اور سکون عطا فرمائے، تمام مؤمنین و مؤمنات اور امتِ مسلمہ کے شہداء پر اپنی رحمت نازل کرے، اور عراق سمیت تمام اسلامی ممالک کو عزت، سلامتی اور خیر و برکت سے نوازے۔
آپ کا تبصرہ