24 جون 2026 - 16:47
میدانِ جنگ کے بعد سیاسی محاذ؛ صہیونی رژیم کا حزب اللہ کو لبنان کے اندر سے کمزور کرنے کا منصوبہ

صہیونی رژیم کے بعض حلقے فوجی راستے کی ناکامی کے بعد حزب اللہ کو کمزور کرنے اور لبنان کے اندرونی حالات کو اپنے حق میں بدلنے کے لیے سیاسی، معاشی اور سماجی ذرائع استعمال کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی رژیم کی جنگی مشینری کی ناکامی اور تباہی و خوف کے ذریعے مخالفین کو جھکانے کی پالیسی ناکام ہونے کے بعد تل ابیب کے تعلیمی اور تحقیقی حلقے پرانی حکمت عملیوں کی طرف واپس آ گئے ہیں۔ ان حکمت عملیوں کا مقصد لبنان کے سیاسی اور سماجی طبقات کو حزب اللہ کے خلاف کھڑا کر کے مزاحمت کو اندر سے کمزور کرنا ہے۔

لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، یہ سوچ عبرانی یونیورسٹی کے استاد اور میتفیم انسٹی ٹیوٹ کی انتظامی کمیٹی کے رکن ایلی فودا اور اسی ادارے کے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ شعبے کے سربراہ اور لبنان کے امور کے محقق ایتان یشای کے ایک مشترکہ مضمون میں سامنے آئی ہے۔

میتفیم انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اس مضمون میں صرف صہیونی رژیم کی دفاعی حکمت عملی کی ناکامی یا فوجی طاقت کے ذریعے اپنی مرضی مسلط نہ کر سکنے کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ لبنان، بالخصوص لبنانی شیعہ برادری کے حوالے سے حزب اللہ کو کمزور کرنے کی تفصیلی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔

اس منصوبے کا مقصد لبنان کے سرکاری اداروں کے نام پر مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دے کر مزاحمت کے سماجی اور سیاسی ڈھانچے کو اندر سے نقصان پہنچانا ہے۔

جنوبی لبنان سے انخلا کو حزب اللہ پر دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی تجویز

اس منصوبے کی بنیاد اس خیال پر رکھی گئی ہے کہ حزب اللہ کی سب سے بڑی ضرورت لبنان کے اندر اپنی سیاسی اور عوامی حمایت برقرار رکھنا ہے۔

صہیونی محققین کے مطابق، جب تک صہیونی رژیم جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں پر قابض ہے، حزب اللہ کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے، کیونکہ حزب اللہ قبضے کو مسلح مزاحمت جاری رکھنے کی بنیادی وجہ قرار دیتی ہے اور خود کو لبنان اور اس کی خودمختاری کے محافظ کے طور پر پیش کرتی ہے۔

اسی بنیاد پر ان محققین نے تجویز دی ہے کہ جنوبی لبنان سے صہیونی فوج کے انخلا کو لبنان کے ساتھ امن کی کوشش کے طور پر نہیں بلکہ حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جائے۔

ان کے مطابق، صہیونی فوج کا انخلا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے سے مشروط ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح لبنان کی سرکاری حکومت کے لیے نئی سیاسی گنجائش پیدا ہو گی، جبکہ جنوبی لبنان کے بے گھر شیعہ شہری بھی اپنے گھروں کو واپس جانے کی خواہش میں حزب اللہ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

حزب اللہ کو اس کے شیعہ عوامی حلقے سے الگ کرنے کی کوشش

اس منصوبے کا اہم مقصد حزب اللہ کو اس کے شیعہ عوامی حلقے سے الگ کرنا ہے۔ صہیونی حلقے چاہتے ہیں کہ جنوبی لبنان سے انخلا، تعمیر نو اور دیگر آئندہ معاملات میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کا کریڈٹ حزب اللہ کے بجائے لبنان کی سرکاری حکومت کو دیا جائے۔

اس منصوبے میں لبنانی شیعہ برادری سے متعلق تین اہم نکات پیش کیے گئے ہیں۔

لبنانی فوج کو حزب اللہ کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی کوشش

پہلی تجویز لبنانی فوج سے متعلق ہے۔ صہیونی محققین نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ حالات میں لبنانی فوج حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

اس کے باوجود انہوں نے لبنانی فوج کو صرف فوجی لحاظ سے نہیں بلکہ معاشی اور سماجی طور پر بھی حزب اللہ کے مقابلے میں ایک مضبوط ادارہ بنانے کی تجویز دی ہے۔

اس منصوبے کے تحت مغربی ممالک کی جانب سے ہتھیار فراہم کرنے، خلیجی عرب ممالک کی جانب سے مالی معاونت اور اردن و مصر میں لبنانی فوجی یونٹوں کی تربیت کی بات کی گئی ہے۔

محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ حزب اللہ کے کارکنوں کو لبنانی فوج کے سپاہیوں سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے، اس لیے لبنانی فوج کو بہتر تنخواہوں اور مراعات والا ادارہ بنایا جائے تاکہ شیعہ نوجوان حزب اللہ کے بجائے فوج میں شامل ہونے کو ترجیح دیں۔

لبنانی شیعہ برادری میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش

اس منصوبے کا دوسرا حصہ لبنان کی شیعہ برادری کے اندر اختلافات پیدا کرنے سے متعلق ہے۔

اس حوالے سے لبنانی پارلیمان کے اسپیکر اور تحریک امل کے سربراہ نبیہ بری کا نام لیا گیا ہے۔ صہیونی محققین کے مطابق، نبیہ بری کا حزب اللہ کے بارے میں مؤقف پہلے کی نسبت تبدیل ہوا ہے اور لبنانی شیعہ حلقوں میں بعض نئی بحثیں سامنے آ رہی ہیں۔

ان محققین کا خیال ہے کہ اس صورتحال کو حزب اللہ کے خلاف شیعہ برادری کے اندر سے کام کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حزب اللہ کے فلاحی نظام کا متبادل بنانے کی تجویز

اس منصوبے کا تیسرا حصہ سماجی اور فلاحی خدمات سے متعلق ہے۔ صہیونی محققین نے تجویز دی ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے لبنانی شیعہ برادری کو فراہم کی جانے والی خدمات کا متبادل بنایا جائے۔

حزب اللہ اپنے عوامی حلقے کو بینکنگ، اسپتالوں، اسکولوں، رعایتی بازاروں اور دیگر سماجی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ اس منصوبے میں کہا گیا ہے کہ لبنان کی حکومت صہیونی رژیم اور بین الاقوامی برادری کی مالی و انتظامی مدد سے ان خدمات کا متبادل فراہم کرے۔

اس کے تحت جنوبی لبنان کی تعمیر نو سرکاری اداروں کے ذریعے اور حزب اللہ سے وابستہ نہ ہونے والے شیعہ عناصر کے تعاون سے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ شیعہ شہری یہ سمجھیں کہ ان کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت حزب اللہ کے بجائے لبنان کی ریاست کے پاس ہے۔

حزب اللہ کو اندر سے کمزور کرنے کی حکمت عملی

یہ منصوبہ حزب اللہ کو اندر سے کمزور کرنے کی ایک مکمل حکمت عملی ہے، جس کے تحت لبنان کی حکومت کو حزب اللہ کے مقابلے میں، شیعہ کو شیعہ کے مقابلے میں اور ریاستی اداروں کو مزاحمتی تنظیم کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تاہم اس منصوبے پر عمل کے لیے وقت، مسلسل کوشش، لبنان کی حکومت، تحریک امل اور اس کی قیادت کی آمادگی، عرب و بین الاقوامی مالی مدد اور لبنان کی شیعہ برادری کی جانب سے موجودہ سیاسی و سماجی راستوں کو چھوڑنے کی خواہش درکار ہو گی۔

اس کے علاوہ، اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہو گا کہ حزب اللہ اور ایران اس کے مقابلے میں کیا ردعمل دیتے ہیں۔

صہیونی رژیم کے محدود ہوتے آپشنز کا اعتراف

میتفیم انسٹی ٹیوٹ کے محققین کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ منصوبہ صہیونی فیصلہ ساز حلقوں میں پائی جانے والی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ حکمت عملی صہیونی رژیم کے لیے کسی بہترین راستے کا انتخاب نہیں بلکہ اس کے فوجی اور سیاسی آپشنز محدود ہونے کے بعد اختیار کیا جانے والا راستہ دکھائی دیتی ہے۔

صہیونی رژیم اس امکان پر انحصار کر رہا ہے کہ لبنان کی حکومت حزب اللہ سے متعلق اس کے مطالبات پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہو گی اور پھر سیاسی، سماجی، قانونی، تعمیر نو اور ریاستی اداروں کے مختلف میدانوں میں حزب اللہ اور اس کے عوامی حلقے کے خلاف کارروائی کرے گی۔

اس تجزیے کے مطابق، صہیونی رژیم کو امید ہے کہ اس طرح وہ اپنی بعض ناکامیوں اور شکستوں کا ازالہ کر سکے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha