22 جون 2026 - 16:54
جولانی کا ٹرمپ کے بیان پر ردعمل؛ حزب اللہ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں

سوریہ کے عبوری صدر احمد الشرع المعروف جولانی نے لبنان میں فوجی مداخلت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دمشق حزب اللہ سمیت تمام لبنانی فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جولانی نے ٹی وی چینل "المشهد" کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کیا، جس میں انہوں نے حزب اللہ سے متعلق معاملہ شام کے سپرد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا تھا۔

جولانی نے کہا کہ اگر شام جنگی میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتا تو وہ اس کا کھلے عام اعلان کرتا۔ انہوں نے لبنان میں ماضی کی سرپرستی یا بالادستی کے دور کی واپسی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں شام کا کردار مثبت، تعمیری اور لبنانی ریاستی اداروں کی حمایت پر مبنی ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ لبنان کے بحران کے حل کے لیے شام کی تجویز کا بنیادی نکتہ جنگ کا خاتمہ ہے، جس کے بعد اقتصادی، سیاسی اور سماجی اقدامات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

جولانی نے کہا کہ لبنان کے مختلف طبقات، خصوصاً شیعہ برادری، کے لیے اعتماد اور نفسیاتی اطمینان کی فضا پیدا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ کو لبنانی ریاستی ڈھانچے میں مناسب مقام ملنا چاہیے اور ایسے طریقوں سے گریز کیا جانا چاہیے جن میں تمام فریق نقصان اٹھائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر لبنان اور شام کے مفادات کا تقاضا ہوا تو وہ حزب اللہ کے ساتھ مذاکرات سے گریز نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے نزدیک سفارت کاری کا عمل مخالف فریقوں کے ساتھ بھی جاری رہنا چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حزب اللہ سے متعلق معاملہ شام کے سپرد کیے جانے کا عندیہ دیا تھا۔ اسی دوران ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لبنان میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے، بصورت دیگر امریکا پہلے سے زیادہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha