15 جون 2026 - 17:30
غزہ کے قبرستانوں کی بڑے پیمانے پر تباہی؛ 93 فیصد سے زائد قبرستان متاثر

یورپ۔میڈیٹیرین ہیومن رائٹس مانیٹر نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اس علاقے کے 93 فیصد سے زائد قبرستان تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں قبرستان مکمل یا جزوی طور پر مٹائے جا چکے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انسانی حقوق کے ادارے Euro-Med Human Rights Monitor نے پیر کے روز جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں کے دوران بڑے پیمانے پر قبرستانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 تک جمع کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کے 39 قبرستان مکمل طور پر تباہ جبکہ 19 قبرستان جزوی طور پر نقصان کا شکار ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 93 فیصد سے زائد قبرستان متاثر ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف رہائشی علاقے بلکہ قبرستان بھی وسیع پیمانے پر تباہ ہوئے ہیں، جسے انسانی حقوق کے ماہرین بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

اسی ادارے کے مطابق، اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران غزہ میں ہزاروں فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی لاکھوں کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت سے متاثرین اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جہاں تک امدادی ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قبرستانوں کی تباہی نہ صرف انسانی وقار کے خلاف ہے بلکہ جنگ کے بعد سماجی اور نفسیاتی بحالی کے عمل کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha