15 جون 2026 - 17:12
ہالینڈ میں ہزاروں بچوں کے جوتے سجا دیے گئے؛ غزہ کے شہید بچوں کی خاموش یادگار

ہالینڈ کے شہر ڈین بوش میں فلسطینی شہید بچوں اور صحافیوں کی یاد میں ایک جذباتی تقریب منعقد کی گئی، جہاں ہزاروں بچوں کے جوتے رکھ کر غزہ میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی یاد تازہ کی گئی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ہالینڈ کے شہر 's-Hertogenbosch (ڈین بوش) کے مرکزی مارکیٹ اسکوائر میں فاؤنڈیشن Stichting Plant een Olijfboom کی جانب سے ایک یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینی بچوں اور صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

تقریب کے دوران اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینی صحافیوں کی تصاویر اور نام آویزاں کیے گئے، جبکہ ہزاروں جوڑے بچوں کے جوتے میدان میں رکھے گئے تاکہ غزہ کے ان معصوم بچوں کی یاد کو زندہ رکھا جا سکے جو جنگ کے دوران شہید ہوئے۔

اس موقع پر مختلف افراد نے غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کے نام اور ان کی عمریں بلند آواز میں پڑھ کر سنائیں۔ رضاکاروں نے شرکاء اور راہگیروں میں معلوماتی پمفلٹ بھی تقسیم کیے جن میں غزہ کی موجودہ صورتحال اور انسانی بحران کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔

فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر Esther van der Most نے کہا کہ ان کی تنظیم سترہویں بار فلسطینی شہید بچوں اور پانچویں بار شہید صحافیوں کی یاد میں یہ تقریب منعقد کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2023 میں روٹرڈیم میں ہونے والی پہلی تقریب میں آٹھ ہزار بچوں کے جوتے رکھے گئے تھے، جبکہ اب شہید بچوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد فلسطینی عوام کے حقِ زندگی، سلامتی اور آزادی کی حمایت کرنا ہے۔ ان کے بقول فلسطینی عوام کو ایسے حالات کا سامنا ہے جن میں معمول کی زندگی گزارنا ممکن نہیں رہا۔

ایستھر فان ڈر موسٹ نے مغربی کنارے کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ صرف غزہ تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معصوم بچوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے ہالینڈ کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مؤثر اقدامات کرے اور اس بحران کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض بیانات کافی نہیں بلکہ عملی فیصلوں کی ضرورت ہے۔

تقریب میں شہید صحافیوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ فان ڈر موسٹ کے مطابق صحافیوں کو نشانہ بنانے کا مقصد حقائق کی ترسیل کو روکنا ہے، تاہم سچائی کو دنیا تک پہنچانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha