15 جون 2026 - 16:56
شیخ حنینہ: دشمن کی حکمتِ عملی کو سمجھنا محاذِ مقاومت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے

لبنان کے معروف عالم دین شیخ غازی حنینہ نے کہا ہے کہ دشمن کی فکری اور عملی حکمتِ عملی کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور مقاومت کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جامعہ باقرالعلوم(ع) کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید احسان رفیعی علوی نے لبنان میں تجمع علمائے مسلمین کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین شیخ غازی حنینہ سے ملاقات اور گفتگو کی۔

ملاقات میں دشمن کی حکمتِ عملی کے سائنسی مطالعے، مقاومت سے متعلق تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ، امتِ مسلمہ کی رہنمائی میں علما کے کردار اور اسلامی وحدت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

شیخ غازی حنینہ نے جامعہ باقرالعلوم(ع) کو اسلامی انقلاب کی اہم علمی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ اور محققین، خصوصاً اعلیٰ تعلیمی مراحل میں، مخالف قوتوں کے فکری اور سیاسی منصوبوں کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا ایک اہم تحقیقی سوال یہ ہے کہ دشمن کس طرح سوچتا اور منصوبہ بندی کرتا ہے، کیونکہ اس کی بہت سی نئی اسکیمیں درحقیقت پرانے منصوبوں ہی کا تسلسل ہوتی ہیں۔

اس موقع پر حجت الاسلام والمسلمین رفیعی علوی نے کہا کہ عالمِ اسلام اس وقت ایک حساس اور فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے۔ اگر دینی علما اپنی رہنمائی کی ذمہ داری مؤثر انداز میں ادا نہ کریں تو مسلم معاشروں کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے کامیابی کے ساتھ گزرنے کے لیے علمی، فکری اور سماجی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ ان کے بقول جبهۂ مقاومت کے ممتاز رہنماؤں کی شہادت اگرچہ بڑا نقصان ہے، لیکن ان کا خون امتِ مسلمہ میں نئی بیداری اور حوصلے کا سبب بنا ہے۔

شیخ غازی حنینہ نے اہل بیت(ع) کے مقام و منزلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقاومت مسلم اقوام کی عزت، آزادی اور خودمختاری کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اور ثقافتی چیلنجوں کے اس دور میں اسلامی اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

انہوں نے بعض عرب ممالک کی جانب سے صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ روش امتِ مسلمہ کے اصولی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق فکری خودمختاری، اسلامی اقدار سے وابستگی اور مسلم اقوام کے درمیان تعاون موجودہ حالات میں ناگزیر ہے۔

شیخ حنینہ نے کہا کہ گزشتہ ایک صدی سے اسلامی سرزمینوں پر جاری تقسیم اور استعماری پالیسیوں کے مقابلے میں مقاومت ہی امتِ مسلمہ کی عزت و وقار کے تحفظ کا مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کو عالمِ اسلام اور محاذِ مقاومت کے اہم حامیوں میں شمار کرتے ہوئے علمی، ثقافتی اور دینی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا۔

نشست کے اختتام پر شرکاء نے عالمِ اسلام کی تازہ صورتحال، جامعات کے کردار، علمی ذمہ داریوں اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر مقاومت کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha