اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق میں سازمان بدر کے سربراہ ہادی العامری کے دفتر نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شیعہ جماعتوں کے رابطہ فریم ورک کے اندر اسلحے کو صرف ریاست کے اختیار میں دینے کے معاملے کی پیروی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی یہ خبریں درست نہیں ہیں کہ ہادی العامری کی سربراہی میں اس موضوع پر کوئی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اس معاملے کے لیے کسی قسم کی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔
بیان کے مطابق رابطہ فریم ورک کے اندر اسلحے کو ریاست کے اختیار تک محدود کرنے کے عنوان سے کسی کمیٹی کے قیام کی اطلاعات بے بنیاد ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی حکومت، جس کی قیادت ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں، عراقی حکومت پر مزاحمتی قوتوں کے حوالے سے مختلف نوعیت کے دباؤ ڈالتی رہی ہے۔
دوسری جانب عراقی سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ دی ہے کہ عراقی وزیرِ اعظم نے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے الحشد الشعبی کے بعض انتظامی امور اور اسلحے سے متعلق اقدامات کے لیے مناسب طریقۂ کار مرتب کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ریاستی اداروں کی عملداری کو مضبوط بنانا، امن و استحکام کو فروغ دینا اور ایک مضبوط عراقی ریاست کے منصوبے کو آگے بڑھانا ہے۔
آپ کا تبصرہ