16 جون 2010 - 19:30

عراقی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ انتخابات میں ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹ گننے والی مشینوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی گئی ہے۔

  علی الدباغ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ حکومت قانون اتحاد کے ووٹوں کی تعداد دیگر سب گروہوں سے زیادہ ہے، کہا کہ تمام سیاسی گروہوں اور جماعتوں کے پاس انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت و شواہد موجود ہیں کہ جن کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

عراقی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ووٹنگ کے روز پولنگ اسٹیشن بند ہونے کے بعد ووٹ گننے والی مشینوں اور آلات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے اس کی اطلاع حکومت کو دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراقی حکومت عراقی عوام کے حقوق کا تحفظ چاہتی ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سب کو ان کا حق مل جائے۔

 عراقی حکومت کے ترجمان نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ عینی شاہدین نے عراقی عدالتوں میں حاضر ہو کر انتخابات میں دھاندلی کی گواہی دی ہے، کہا کہ ان شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جانی چاہیے اور جو لوگ ہاتھوں سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے مخالف ہیں وہ مشکوک ہیں۔

عراق کے صدر جلال طالبانی اور وزیراعظم نوری مالکی نے چیف الیکشن کمشنر سے ہر قسم کے ابہام اور شک اور دور کرنے کے لیے ہاتھوں سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے جب کہ ایاد علاوی کی قیادت والے العراقیہ اتحاد نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی مخالفت کی ہے۔ عراق پر امریکی قبضے کے اوائل میں امریکہ کے مقرر کردہ وزیراعظم ایاد علاوی پر، کہ جنہیں سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

.........

152/