اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،خلیج فارس کے امور کے ماہر وحید اخوت نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے خلیجی ممالک کی روایتی سیکیورٹی حکمتِ عملی کی بنیادی خامیوں کو آشکار کر دیا ہے۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران خلیجی عرب ممالک نے سیکیورٹی کو اپنی مقامی طاقت کے بجائے ایک “درآمدی شے” کے طور پر دیکھا۔ ان کے مطابق ان ممالک کی حکمتِ عملی تین بنیادی ستونوں پر قائم رہی۔
پہلا ستون سیکیورٹی کی بیرونی ذمہ داری تھا، جس کے تحت امریکہ اور مغربی افواج پر مکمل انحصار کیا گیا۔ قطر کے العدید، الظفرہ اور بحرین میں موجود پانچویں بحری بیڑے جیسے فوجی اڈوں کو دفاعی تحفظ کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔
دوسرا ستون بڑے پیمانے پر اسلحہ کی خریداری تھا۔ ماہر کے مطابق ایف-35 جنگی طیاروں اور پیٹریاٹ دفاعی نظام جیسے ہتھیاروں کی خرید کا مقصد صرف جنگی طاقت بڑھانا نہیں بلکہ امریکہ کی دفاعی وابستگی کو یقینی بنانا تھا۔
تیسرا ستون تیسرے فریق کے ذریعے توازن” کی پالیسی تھی، جس میں خطے سے باہر کی طاقتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، جبکہ براہِ راست تصادم سے گریز کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ