اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے زور دیکر کہا ہے کہ نام نہاد ابراہیمی معاہدے میں شمولیت ہمارے سیاسی اور سماجی اقدار اور افکار کے منافی ہے لہذا اسلام آباد ایسے کسی بھی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا جو پاکستانی عوام کے بنیادی تفکر سے تضاد رکھتا ہو۔
انہوں نے پاکستان کے سما ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ایسے کسی بھی معاہدے میں شامل ہونا نہیں چاہیے کہ جو پاکستان کے بنیادی نظریے کے منافی ہو۔
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں اسلام آباد کا موقف انتہائی شفاف ہے اور ایسے روابط ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاسپورٹ میں صاف انداز میں درج ہے کہ اسے اسرائیل جانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اس سے قبل روئیٹرز نیوز ایجنسی نے ایک باخبر ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی ٹرمپ کی تجویز کو ٹھکرا دیا ہے۔
پاکستان کے باخبر ذرائع نے کہا تھا کہ اسلام آباد نے واشنگٹن کی اس کوشش کو (ایران سے جنگ بندی کے لیے ہونے والی) سفارتکاری کا غلط استعمال اور دباؤ ڈالنے کا طریقہ قرار دیا اور ٹرمپ کے درخواست کی مخالفت کی۔
آپ کا تبصرہ