25 مئی 2026 - 22:32
مآخذ: ابنا
مذاکرات ایسے انداز میں جاری ہیں کہ ایرانی قوم کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ملک کی خارجہ مذاکراتی حکمتِ عملی اس انداز میں ترتیب دی گئی ہے کہ ایرانی قوم کے حقوق مکمل طور پر حاصل کیے جا سکیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ملک کی خارجہ مذاکراتی حکمتِ عملی اس انداز میں ترتیب دی گئی ہے کہ ایرانی قوم کے حقوق مکمل طور پر حاصل کیے جا سکیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق صدر نے   ایک خصوصی اجلاس میں معاشی سرگرمیوں کو درپیش مسائل، خصوصاً حالیہ جنگی صورتحال کے اثرات، کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں صنعت، تجارت، توانائی، زرِمبادلہ اور پیداواری شعبوں سے متعلق رکاوٹوں پر بھی گفتگو کی گئی۔

صدر نے نجی شعبے اور کاروباری شخصیات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں بازار کے استحکام، اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور اقتصادی نظام کو برقرار رکھنے میں ان کا اہم کردار رہا، جس کی وجہ سے حالیہ بحران کے دوران شدید قلت یا مارکیٹ میں بڑا بحران پیدا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی صنعت اور پیداوار کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور بجلی و گیس کی بلا تعطل فراہمی، کاروباری ماحول میں آسانی اور غیر ضروری ضوابط کے خاتمے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

صدر نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں تجارت اور برآمدات کے فروغ کے لیے اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جبکہ یوریشین اکنامک یونین، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسے علاقائی پلیٹ فارمز کو بھی اہم مواقع قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ توانائی پر دی جانے والی سبسڈی صرف ان صنعتوں کے لیے ہونی چاہیے جو حقیقی پیداوار، روزگار اور کارکردگی میں اضافہ کریں، جبکہ وسائل کے ضیاع، اسمگلنگ یا غیر شفاف سرگرمیوں کی روک تھام ضروری ہے۔

پزشکیان نے زرِمبادلہ کی شفاف تقسیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ترجیح عوام کی بنیادی ضروریات، ادویات اور لازمی اشیاء کی درآمد ہے، جبکہ غیر ضروری اور تعیشاتی اشیاء پر قیمتی زرِمبادلہ خرچ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے بعض عناصر کی جانب سے سرکاری سہولتوں اور زرِمبادلہ کے غلط استعمال پر تنقید کرتے ہوئے نجی شعبے سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف کھڑا ہو تاکہ اقتصادی شعبے کی ساکھ متاثر نہ ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha