23 مئی 2026 - 13:52
مآخذ: ابنا
سابق موساد اہلکار کا تل‌آویو کی ایران کے سامنے اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف

موساد کے ایک سابق اعلیٰ اہلکار نے اسرائیل کی ایران کے خلاف پالیسی اور جنگی حکمتِ عملی کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تل‌آویو اس وقت “اسٹریٹجک تعطل” کا شکار ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، موساد کے ایک سابق اعلیٰ اہلکار نے اسرائیل کی ایران کے خلاف پالیسی اور جنگی حکمتِ عملی کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تل‌آویو اس وقت “اسٹریٹجک تعطل” کا شکار ہے۔

اسرائیلی ٹی وی چینل ۱۲ کی رپورٹ کے مطابق سابق اہلکار نے اعتراف کیا کہ اسرائیل اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت اور بازدارندگی کو برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ مضبوطی حاصل کر لی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق موساد عہدیدار نے کہا کہ ایران کے اعلیٰ کمانڈرز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ غلط ثابت ہوا کیونکہ ایرانی نظام نے بہت تیزی سے اپنی کمانڈ اسٹرکچر کو دوبارہ منظم کر لیا۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے اندر بڑے پیمانے پر احتجاج یا حکومت مخالف تحریک کی توقع بھی غلط ثابت ہوئی، اور ایسی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہو سکی۔

سابق اہلکار کے مطابق اسرائیل نے ایران کی میزائل صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ کو کم سمجھا تھا، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو اقتصادی، نفسیاتی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایران نہ صرف اپنی طاقت برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط سمجھتا ہے اور مذاکرات کو بھی دباؤ کے بجائے مزاحمتی پوزیشن سے دیکھتا ہے۔

اسرائیلی چینل کے مطابق بعض سیکیورٹی حلقوں میں یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ اگر موجودہ تعطل ختم نہ ہوا تو مستقبل میں دوبارہ جنگ کا امکان خارج از امکان نہیں، تاہم اس کے خطرات انتہائی زیادہ ہوں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha