بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اصفہان سے موصولہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے 5 اپریل (2026ع) کو امریکی وقت کے مطابق 00:00 بجے تین طیاروں کے ذریعے صوبۂ اصفہان کے شہر "شَہرضا" میں دشتِ مَہیار کے ایک متروکہ ہوائی اڈے پر فوجی حملہ کیا۔ اس فوجی حملے میں امریکہ کی ناکامی نے امریکی فوجی طاقت کے رعب اور دبدبے کو پاش پاش کر دیا، جس نے مہینوں سے اس آپریشن کے لئے منصوبہ بندی کی تھی۔
سرکاری اور فوجی اہلکار ہر بار کسی نہ کسی سلسلے میں، اس عظیم الٰہی معجزے کے بعض پوشیدہ پہلوؤں کو بیان کر دیتے ہیں۔ اصفہان کے گورنر اور اصفہان کے نائب گورنر برائے سیکیورٹی و انتظامی امور نے اس بار اصفہان صوبے کے تعلقات عامہ کانفرنس میں اس الٰہی قدرت کا ایک پہلو بیان کیا۔
دشتِ مَہیار؛ ایک مکمل اور میڈیا کی تشریح کا محتاج معجزہ
گورنر اصفہان مہدی جمالی نژاد نے "دشتِ مَہیار کے معجزے" کے بارے میں کہا: مجھے یقین ہے کہ آئی آر آئی بی اور میڈیا نے "دشتِ مَہیار" کے زاویوں اور پہلوؤں کو متعارف کروانے پر کافی شافی توجہ نہیں دی ہے؛ دشتِ مَہیار ایک مکمل معجزہ ہے جس نے طبس کی ریت کے طوفان جیسے واقعے میں، اپنے قدرتی مظاہر اور خاص بارشوں کے ذریعے دشمنوں کی سازشوں کو خاک میں ملا دیا اور میڈیا کارکنوں پر لازم ہے کہ اس عظیم واقعے کے پہلوؤں کو فراد جزء بہ جزء تشریح کریں۔
جب صحرا کی کیچڑ اور مٹی طبس کی ریت کی طرح خدا کے سپاہی بن گئے
نائب گورنر اصفہان، برائے سیکیورٹی و انتظامی امور، اکبر صالحی، نے بھی اس واقعے کو ـ جس کو طبس-2 کا نام بھی دیا گیا ہے ـ کے بارے میں کہا: باضابطہ قرارداد کے مطابق اس واقعے کا نام "دشتِ مَہیار کا معجزہ" رکھا گیا ہے۔
انھوں نے اس اہم واقعے کے تین کلیدی نکات اور پوشیدہ پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے اسے 47 سال بعد الٰہی ارادے کے مظاہرے کا اعادہ قرار دیا اور کہا: دشمن نے بہت بھاری اور پیچیدہ منصوبہ بندی کی تھی، لیکن دشتِ مَہیار میں بارش اور صحرا کی کیچڑ اور مٹی نے، بالکل طبس کے صحرا میں بہتی ریت کی طرح، الٰہی سپاہیوں اور لشکریوں کا کردار ادا کیا اور دشمن کا نقشہ درہم برہم کر دیا۔
صالحی نے دشتِ مَہیار علاقے کے عوام اور کسانوں کے ذمہ دارانہ کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا: اس واقعے میں قومی سلامتی کے تحفظ میں عوام کی شرکت حیران کن، غیر معمولی اور شاندار تھی
اور جو کسان موقع پر موجود تھے اور دشمن کے ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کے باوجود میدان میں حاضر تھے، انہوں نے بار بار سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے مراکز کے نمبروں (113، 114 اور 110) سے رابطہ کیا؛ اور واقعے کی حدود میں انجام پانے والی حرکات و سکنات کی درست معلومات ریکارڈ کرا دیں، جو ایک باعثِ فخر واقعہ ہے۔
واضح رہے کہ دہشت گرد امریکی فوجیوں نے جارحیت کے دوران جرقویہ کے نصرآباد کے 10 دیہاتیوں ـ بشمول دو خاندانوں کے افراد کو ـ براہِ راست فائرنگ کرکے شہید کر دیا تھا۔ امریکی دہشت گردوں نے انہیں اس لئے شہید کر دیا کہ وہ ایران کی سرکاری فورسز کو ان کی موجودگی کی اطلاع نہ دے سکیں؛ لیکن جب امریکہ موقع پر پہنچے تو ایرانی جانباز ان کا آتشیں استقبال کرنے کے لئے پہلے سے موجود تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد جواد شواخی زوارہ
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ