اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مقامی لبنانی ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ آج صبح اسرائیلی فوج کے ایک گشتی دستے نے قنیطرہ کے نواحی علاقوں «البصالی» اور «ام اللوقس» کے کھیتوں سے دو نوجوانوں کو گرفتار کر لیا، تاہم ان پر عائد الزامات کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
دوسری جانب Syrian Observatory for Human Rights نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی یونٹ، جس میں تین فوجی گاڑیاں شامل تھیں، درعا کے مغربی نواحی علاقے حوض الیرموک میں وادی الرقاد کے قریب داخل ہوئی۔ اس کارروائی کے دوران اسرائیلی جنگی طیارے بھی علاقے کی فضاؤں میں پرواز کرتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ شب بھی اسرائیلی ہیلی کاپٹر درعا صوبے کے مغربی علاقوں کے اوپر مسلسل پرواز کرتے رہے۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے قنیطرہ کے نواح میں آٹھ میٹر چوڑی فوجی سڑک کی تعمیر دوبارہ شروع کر دی ہے، جس کے اطراف مٹی کے بلند پشتے اور خندقیں بنائی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی نگرانی اور جاسوسی کے نئے مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ تمام اقدامات «سوفا 53» یا «بڑا طوفان» نامی فوجی و انجینئرنگ منصوبے کا حصہ ہیں، جو جبل الشیخ سے لے کر درعا کے مغربی علاقے حوض الیرموک تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ منصوبہ اُس بفر زون میں جاری ہے جو «آندوف» لائن پر افواج کی علیحدگی کے معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رپورٹس کے مطابق جنوبی شام میں اسرائیلی تحرکات بغیر کسی مؤثر ردِعمل کے جاری ہیں اور دمشق حکومت کی جانب سے اب تک کوئی عملی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔
آپ کا تبصرہ