اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار معاریو کے سینئر تجزیہ کار بن کاسبیت نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ جنگ میں اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ حماس دو سالہ جنگ اور مسلسل حملوں کے باوجود اب بھی مضبوطی سے قائم ہے۔
رپورٹ کے مطابق حماس کے شہید رہنما یحییٰ السنوار اور محمد الضیف کے "طوفان الاقصیٰ" آپریشن کے اہم مقاصد حاصل ہو گئے، جن میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی معمول سازی روکنا اور غزہ میں حماس کی طاقت برقرار رکھنا شامل تھا۔
معاریو نے لکھا کہ شدید جنگ، بمباری اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود اسرائیل غزہ میں وہ "مکمل فتح" حاصل نہیں کر سکا جس کا وعدہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کیا تھا۔
اخبار کے مطابق اسرائیل کی جانب سے حماس کے کمانڈروں کو مسلسل نشانہ بنانے کے باوجود تنظیم کا ڈھانچہ برقرار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ "ہر کمانڈر کی شہادت کے بعد القسام بریگیڈز میں دوسرا کمانڈر اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ السنوار کے بعد ان کے بھائی آئے، اور اگر الحداد بھی شہید ہو جائیں تو کوئی اور ان کی جگہ سنبھال لے گا۔"
معاریو نے اعتراف کیا کہ حماس نے شدید نقصانات کے باوجود لڑائی جاری رکھنے کی صلاحیت ثابت کی ہے اور اسرائیل کے لیے سب سے زیادہ خطرناک اور طاقتور تنظیم بن کر سامنے آئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 کے "طوفان الاقصیٰ" آپریشن نے اسرائیل کو ایسی سبکی سے دوچار کیا جو 1973 کی جنگ کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔
اخبار نے آخر میں لکھا کہ اسرائیلی حکومت سیاسی طور پر جنگی اہداف حاصل کرنے اور غزہ میں نئی صورتحال مسلط کرنے میں ناکام رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ