بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے اعلیٰ سطحی دورے کے اختتام کے ساتھ ہی بہت سے مغربی ذرائع ابلاغ اس تین روزہ دورے کی کامیابیوں کا جائزہ اور تجزیہ کرنے لگے ہیں۔
۔۔۔۔۔
حصۂ سوئم:
بڑی کامیابیوں کے فقدان کے باوجود، دونوں فریقوں نے ان تعلقات پر جشن منایا، جسے شی جن پنگ نے "ایک زیادہ مستحکم بنیاد" کے طور پر، دنیا میں سب سے اہم قرار دیا۔ انھوں نے جمعرات کو ایک سرکاری عشائیے میں میں کہا: "ہمیں اس پر کام کرنا چاہئے اور اسے کبھی تباہ نہیں کرنا چاہئے۔"
ایران کے بارے میں چین سے کوئی ٹھوس مدد نہیں ملی
چین کی وزارت خارجہ نے، جمعہ کو دونوں رہنماؤں کی چائے پر ملاقات سے تھوڑی دیر قبل، ایک دو ٹوک بیان جاری کیا جس میں ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر مایوسی کا اظہار کیا گیا۔
چینی وزارت خارجہ نے کہا: "اس تنازع کو ہونا ہی نہیں چاہئے تھا، اور اس کے جاری رہنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے،"
چینی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ "چین ایسی جنگ میں امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جس نے توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔"
ژونگ نانہائی (Zhongnanhai) کمپاؤنڈ (جسے چین کا وائٹ ہاؤس بھی کہا جاتا ہے) میں، ٹرمپ نے کہا کہ "در رہنماؤں نے ایران کے بارے میں بات کی تھی" اور "بہت ملتے جلتے احساسات" تھے، لیکن شی جن پنگ اس معاملے پر خاموش رہے۔ [خیالی پلاؤ پکانے کا سلسلہ جاری رہا گویا]۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ دی کہ ٹرمپ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ چین سے معاہدے تک پہنچنے کے لئے ایران پر اپنا دباؤ استعمال کرے۔ لیکن تجزیہ کاروں کو شک ہے کہ شی جن پنگ تہران پر دباؤ ڈالنے یا اس کی فوج کی حمایت ختم کرنے کے لئے تیار ہوں گے، کیونکہ بیجنگ کے نزدیک، ایران اس کے نزدیک امریکہ کے مقابلے میں، ایک تزویراتی جوابی وزن (Strategic counterweight) ہے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ میں خارجہ پالیسی فیلو، پیٹریشیا کم (Patricia Kim) نے لکھا: "قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ چین نے ایران کے حوالے سے کوئی مخصوص کام کرنے کا کوئی عہد نہیں کیا اور وعدہ نہیں کیا۔"
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: مہدی محمودی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ