15 مئی 2026 - 16:18
مآخذ: ابنا
ایران کے معاملے پر ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا

امریکہ اور چین کے درمیان ایران کے تنازع کے حوالے سے کسی واضح اور عملی معاہدے تک پہنچنا اب بھی ممکن نہیں ہو سکا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور چین کے درمیان ایران کے تنازع کے حوالے سے کسی واضح اور عملی معاہدے تک پہنچنا اب بھی ممکن نہیں ہو سکا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دو روزہ دورے کے اختتام پر بھی واشنگٹن کی توقعات پوری نہ ہو سکیں، کیونکہ چین نے ایران جنگ کے حوالے سے امریکہ کے مطالبات پر کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی۔

دورے کے آخری دن ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں رہنماؤں کی رائے اس بات پر کافی حد تک یکساں ہے کہ ایران سے متعلق جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی ٹھوس معاہدے یا عملی پیش رفت کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے اور انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر فوری جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم بیجنگ کے مؤقف میں یہ بات واضح کی گئی کہ وہ اس بحران کو بنیادی طور پر امریکہ کی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

چینی فوج کے ریٹائرڈ کرنل جو بو نے اس حوالے سے کہا کہ چین مدد کرنے کو تیار ہو سکتا ہے، لیکن یہ امریکہ کی کوشش ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری چین پر ڈال دے۔

گارڈین کے مطابق چین نے ایران کے معاملے میں کسی بھی قسم کی عملی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا ہے اور اس کی توجہ زیادہ تر تجارتی معاہدوں اور توانائی کے شعبے پر مرکوز رہی۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اپنے دورہ چین کے دوران ایران بحران پر شی جن پنگ سے کوئی واضح یا عملی تعاون حاصل کرنے میں ناکام رہے، اور اس معاملے پر چین کی پالیسی بدستور محتاط اور غیر جانبدار رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha