
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اس نتیجے کے مطابق دارالحکومت میں المالکی کی قیادت میں تشکیل پانے والی جماعتوں کے اتحاد کو ایک لاکھ انسٹھ ہزار ووٹ، عمارالحکیم کی قیادت میں متشکلہ اتحاد کو ایک لاکھ آٹھ ہزار ووٹ اور ایاد علاوی کی قیادت میں متشکلہ اتحاد کو ایک لاکھ پانچ ہزار ووٹ ملے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ نتائج صرف اٹھارہ فیصد ووٹوں سے تعلق رکھتے ہیں اور 325 میں سے 70 نشستیں دارالحکومت بغداد کے لئے مختص ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ابتدائی رائے شماری کے مطابق المالکی کے اتحاد کو 5 دیگر صوبوں میں بھی سبقت حاصل ہے جن میں سے چار صوبوں کا تعلق عراق کے جنوب سے ہے۔ جمعرات (13/2010)عراقی انتخابات/ مفصل رپورٹنوری المالکی کا اتحاد نجف اور بابل میں پیش پیش ہے/ دو اتحادوں کے درمیان صرف ایک لاکھ ووٹوں کا اختلاف۔اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق المالکی کی سربراہی میں قائم سیاسی اتحاد "حکومتِ قانون" نجف اور بابِل میں دوسری جماعتوں سے پیش پیش ہے جبکہ عمار حکیم کا اتحاد دوسرے نمبر پر ہے؛ اور ایاد علاوی کا اتحاد العراقیہ تیسرے نمبر پر ہے۔ دوسری طرف سے آیت اللہ العظمی سیستانی نے انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں سے اپیل کی ہے کہ عراق کے مستقبل کی تعمیر کے لئے مثبت کردار ادا کریں۔ سید عمار حکیم نے آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ آیت اللہ العظمی سیستانی کامیاب انتخابات کے انعقاد سے خوشنود ہیں۔ انھوں نے کہا: میں آیت اللہ سیستانی کو مبارک باد عرض کرنے کی غرض سے ان سے ملا تھا کیونکہ انتخابات بہت عظیم اور پر شکوہ تھے اور عوام نے ان انتخابات کا زبردست خیر مقدم کیا۔ عمار حکیم نے کہا کہ آیت اللہ سیستانی نے عوام کو انتخابات میں شرکت کی دعوت دی تھی جو بہت مؤثر رہی اور ان کے بیان کی وجہ سے عوام نے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔ انھوں نے کہا: آیت اللہ العظمی سیستانی کی صحت بہت اچھی ہے اور وہ نہایت تندرست اور بانشاط ہیں اور ملک کی صورت حال کی نگرانی کررہے ہیں اور ملت عراق کے ہر فرد کے امور کو اہم سمجھتے ہیں اور ان کے امور کو توجہ دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا: آیت اللہ العظمی سیستانی نے زور دے کر کہا ہے کہ انتخابات کے بعد کا مرحلہ انتخابات سے قبل کے مرحلے سے مختلف ہونا چاہئے اور حکام اور منتخب نمائندے عوام کے مسائل و مشکلات کی طرف توجہ دیں اور سیاسی جماعتیں عوام کو دیئے ہوئے وعدوں پرعمل کریں۔ اور عوام کی اعتماد سے بہرہ مند ہونے والے نمائندے عراق کے مستقبل کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کریں۔ ادھر عراق کے انتخابات میں اہل تشیع کی کامیابی کا راستہ روکنے کے سلسلے مین سب سے زیادہ مداخلت کرنے والے ملک سعودی عرب کی ہمہ جہت حمایت اور سعودی عرب سے دو سو ملین ڈالر کی اعلانیہ امداد حاصل کرنے والے "ایاد علاوی" ـ جو سعودی عرب اور امریکہ کے علاوه بعثی حلقوں، پڑوسی ملک اردن اور مصر کی حمایت سے بهی بہرہ مند تھے ـ انتخابات مین ناکامی کے بعد کہا ہے کہ وہ حکومت کی تشکیل کے لئے المالکی کے ساتھ اتحاد کرنے کے لئے تیار ہیں!!!ایاد علاوی حال ہی میں سعودی عرب جاکر عبداللہ بن عبدالعزیز اور سعودی جاسوسی اداروں کے سربراہ سے ملے تھے جہاں بظاہر ان کو انتخابات میں کامیابی کے لئے بیس کروڑ ڈالر کی نقد امداد دی گئی اور سعودی بادشاہ نے ان سے کہا کہ امریکی ـ سعودی تعاون کے باوجود آنتخابات مین ناکامی کی صورت مین بعثی فوجی افسرون کی مدد سی شیعه حکومت کی خلاف فوجی بغاوت کردین!!!علاوی بظاهر اس شرط پر المالکی کی ساته اتحاد کرنی کی لئی تیار هی که ان کو هی وزیر اعظم بنایا جائی چنانچه ان کا کهنا تها: "اگر میں وزیراعظم بنا تو ایران کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کروں گا!"۔انھوں نے کہا "امریکہ عراق کا دوست ملک ہے" اور ملت عراق کو عرب ممالک اور ہمسایہ ممالک کی حمایت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے المالکی پر الزام لگایا کہ انھوں نے شام کے ساتھ تعلقات کو کمزور کردیا ہے۔ ادھر ایک عراقی سیاستدان نے کہا کہ امریکیوں کی طرف سے عراقی انتخابات میں دھاندلی کا خطرہ ہے۔عراق قومی اتحاد کے نامزد امیدوار نے کہا کہ امریکہ ـ خاص طور پر انتخابات پر نگرانی کرنے والی بین الاقوامی ٹیم کے رکن سینڈر میچل ـ کی طرف سے عراق کی سیاسی فہرستوں میں رد و بدل کا خطرہ ہے۔ انتفاض قنبر نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انتخابی قانون کی دفعہ 5 کے تحت تمام سیاسی اتحادوں کو ملنے والے ووٹوں کو انٹرنیٹ پر نشر کرنے کا مطالبہ کیا تا کہ کسی طرح کی کوئی دھاندلی ممکن نہ رہے۔ انھوں نے کہا کہ "قومی اتحاد" بعثیوں کی طرف مائل سیاستدانوں کے ساتھ اتحاد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ ہماری تزویری (اسٹریٹجک) اتحادی کرد ہیں اور اگر ہمیں اتحاد کرنا ہے تو کردوں کے مل کر نیا اتحاد بنائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ عراق کے 11 صوبوں میں رائے شماری مکمل ہوگئی ہے اور قومی اتحاد (عمار حکیم کی قیادت میں) پہلے نمبر پر ہے جبکہ المالکی کا اتحاد دوسرے اور ایاد علاوی کا اتحاد تیسرے نمبر پر ہے۔ انھوں نے کہا: ہم ایاد علاوی کے ساتھ اتحاد تشکیل نہیں دیں گے کیونکہ وہ بعثیوں کے حامی ہیں اور بعثی بھی ان کی حمایت کررہے ہیں تاہم کردوں نے بعثیوں کے خلاف جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیا ہے اور اب بھی ان کے ساتھ اتحاد کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف سے عمار حکیم کے قومی اتحاد کے رکن شيخ "جلالالدين الصغير " نے کہا ہے کہ دو بڑے اتحادوں کو حاصل ہونے والے ووٹوں کا فرق صرف ایک لاکھ ہے۔
/110