12 مئی 2026 - 18:15
بحرین میں ’’ایران سے تعاون‘‘ کے الزام میں ایک خاتون کو عمر قید، آل خلیفہ کی شیعہ مخالف کارروائیوں میں شدت

بحرین کی فوجداری عدالت نے ایک خاتون اور دو دیگر افراد کو ’’ایران سے تعاون‘‘ کے الزام میں عمر قید کی سزا سنا دی، جبکہ مزید 21 افراد کو 5 سے 10 سال قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کے نام نہاد ’’انسداد دہشت گردی‘‘ پراسیکیوٹر نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی فوجداری عدالت نے آج کی سماعت میں ایک خاتون کو ایران سے تعاون کے الزام میں عمر قید اور جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی۔

عدالت کے دعوے کے مطابق مذکورہ خاتون نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بحرین کے اہم مراکز اور تنصیبات کی تصاویر اور معلومات شائع کی تھیں۔

بحرینی عدالت نے اسی نوعیت کے الزامات کے تحت دو دیگر افراد کو بھی عمر قید، 10 ہزار دینار جرمانے اور جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی۔

عدالت نے مزید 21 افراد کو حساس مقامات کی ویڈیو بنانے اور بحرین کے خلاف حملوں کی حمایت کے الزام میں 5 سے 10 سال قید، مالی جرمانے اور جائیداد ضبط کرنے کی سزائیں دیں۔

ادھر بحرینی سکیورٹی فورسز نے حالیہ دنوں مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر متعدد ممتاز شیعہ علما کو بغیر کسی عدالتی وارنٹ اور الزامات کی وضاحت کے گرفتار کرکے نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا ہے۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ 41 افراد کو امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران سے تعاون اور ہمدردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بحرین کی اپوزیشن ویب سائٹ ’’الوفاق‘‘ کے مطابق بحرینی فورسز نے کئی شیعہ آبادی والے علاقوں پر چھاپے مارے اور دینی علما و حوزہ علمیہ کے اساتذہ کو گرفتار کیا۔

بحرین، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا مرکز قائم ہے، ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی رژیم کی جارحیت کے بعد شیعہ شہریوں کے خلاف سختیوں میں اضافہ کر رہا ہے اور ایران کی حمایت کو جواز بنا کر کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ اقدامات زیادہ تر شیعہ آبادی والے علاقوں اور مذہبی مراکز میں کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ان علاقوں میں شدید خوف و ہراس اور سکیورٹی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ کارروائیاں آل خلیفہ حکومت کی جانب سے شیعہ کارکنوں اور ناقدین کے خلاف وسیع مہم کا حصہ ہیں، جس میں حالیہ امریکی۔صہیونی حملوں کے بعد مزید شدت آگئی ہے۔

اس سے قبل بحرین کی جمعیت الوفاق نے حکومت کی جانب سے عوام کے خلاف بے بنیاد الزامات اور بڑھتے ہوئے کریک ڈاؤن پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ان اقدامات کو فوری طور پر روکا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha