اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایسی کسی بھی قرارداد کی کوشش، جس میں خطے میں عدم استحکام کی اصل وجوہات کو نظرانداز کیا جائے، ابتدا ہی سے ناکامی سے دوچار ہوگی۔
انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ اور اس کے بعض علاقائی اتحادیوں کی جانب سے سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق قرارداد پیش کرنے کی کوشش دراصل حقائق کو بدلنے کی ایک نئی کوشش ہے۔
غریب آبادی کے مطابق بعض ممالک ایک غیرقانونی محاصرے اور فوجی جارحیت کے نتائج کو اس ملک کے خلاف مقدمہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو خود دباؤ، دھمکی اور حملوں کا نشانہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاز رانی کی آزادی ایک قابل احترام بین الاقوامی اصول ہے، لیکن اسے سیاسی مقاصد کے لیے یکطرفہ انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے زور دیا کہ خطے میں بحری سلامتی سے متعلق کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک معتبر نہیں ہو سکتا جب تک وہ طاقت کے استعمال، بحری محاصرے، مسلسل دھمکیوں اور امریکہ و صہیونی حکومت کے کردار کو نظرانداز کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ صرف جہازوں کی آمدورفت نہیں بلکہ بعض طاقتوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنی غیرقانونی کارروائیوں کو “بین الاقوامی نظام” کے نام پر جائز ثابت کریں۔
غریب آبادی نے خبردار کیا کہ ایران کے قانونی دفاعی حقوق، خطے میں فوجی جارحیت اور دباؤ کا ذکر کیے بغیر تیار کیا جانے والا کوئی بھی متن جانبدارانہ، سیاسی اور ناقابل قبول ہوگا۔
آپ کا تبصرہ