اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطانق،امریکہ کے محکمہ دفاع میں اعلیٰ فوجی افسران کی بڑی تعداد میں برطرفیوں کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں ان اقدامات کو نسلی اور صنفی امتیاز سے جوڑا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2025 کے آغاز سے اب تک درجنوں سینئر جرنیلوں اور ایڈمرلز کو عہدوں سے ہٹایا یا قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا گیا ہے۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ برطرف کیے جانے والے افسران میں خواتین اور سیاہ فام افراد کی نمایاں تعداد شامل ہے، اور اندازاً قریب 60 فیصد متاثرہ افراد انہی طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس صورتحال نے امتیازی سلوک کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اہم ناموں میں مسلح افواج کے اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران بھی شامل ہیں، جنہیں اچانک عہدوں سے ہٹائے جانے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فوجی قیادت میں تنوع کو کمزور کرنے اور ایک خاص سوچ کو مسلط کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلے میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر کیے گئے ہیں، اور اس کا مقصد فوجی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق پچھلی پالیسیوں میں دی گئی ترجیحات کو ختم کر کے پیشہ ورانہ معیار کو اولیت دی جا رہی ہے۔
تاہم کانگریس کے اراکین اور دفاعی ماہرین نے ان وضاحتوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف فوج کے اندر تقسیم پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ہم آہنگی پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ