17 مئی 2010 - 19:30

مسجد الاقصی اور مقبوضہ فلسطین کی دیگر مساجد میں نمازیوں پر صہیونیوں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد الازہر کے علماء نے عالم اسلام کی علمی شخصیات سے قدس کی آزادی کے لئے "جہاد کا باب کھولنے" اور صہیونی ریاست کے خلاف جہاد کا حکم دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کی جامعةالازہر کے علماء کے ایک گروہ نے مقبوضہ فلسطین میں مسلمانوں ـ بالخصوص نمازگزاروں ـ پر صہیونی تشدد اور مسجدالاقصی کے انہدام کی صہیونی سازشوں کے باوجود "عرب ممالک کی بے اعتنائی" اور "مسلم ممالک کی خاموشی" پر تنقید کرتے ہوئے حرم ابراہیمی (ع) اور مسجد الاقصی میں صہیونیوں کی حرمت شکنیوں کا سد باب کرنے کے لئے عاجلانہ اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ الازہر کے علماء نے اپنے بیان میں مسلم ممالک کے کمزور موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم ممالک کے کمزور اور غیر مؤثر موقف کی وجہ سے صہیونیوں کی گستاخیوں اور جسارتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔الازہر کے "ریسرچ فورم" کے رکن "ڈاکٹر محمد مختار المہدی" نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: حقائق پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور نمایاں ہورہے ہیں اور اسلامی امہ کی کمزوری اور عاجزی اور پیش آمدہ واقعات کے مقابلے میں اس کی بے اعتنائی اور سستی ـ قدس میں رونما ہونے والے واقعات کے با وجود بھی ـ آشکارا ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہا: مسلمان اپنا اسلامی تشخص بھول گئے ہیں اور اسلامی جذبات کو فراموش کرچکے ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے قبلۂ اول کے خلاف صہیونی اقدامات روز روشن کی طرح عیاں ہونے کے باوجود مسلمانوں کی طرف سے کوئی رد عمل دیکھنے میں نہیں آرہا ہے۔ یادرہے کہ حالیہ ایام میں صہیونیوں نے حرم ابراہیمی اور مسجد الاقصی کے خلاف اپنے جارحانہ اقدامات میں زبردست اضافہ کیا ہے اور حال ہی میں کئی بار مسلمان نماز گزاروں پر تشدد کیا ہے۔ ............./110