بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایکسیوس نے دعویٰ کیا: "امریکی فوج نے ایران پر ایک محدود مگر طاقتور حملے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں شاید بنیادی ڈھانچے کے اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا، تاکہ مذاکرات میں موجود تعطل ٹوٹ جائے اور ایران جوہری مسئلے کے بارے میں زیادہ لچک کے ساتھ مذاکرات کی میز پر پلٹ آئے!"
ادھر سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس فورس کے کمانڈر جنرل سید مجید موسوی نے ان دھمکیوں کے جواب میں لکھا: "اللہ کے فضل سے، دشمن کی کاروائیوں کا ـ خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہوں ـ دردناک، طویل مدتی اور وسیع پیمانے پر جواب دیں گے۔ ہم نے تمہارے فوجی اڈوں کا انجام دیکھ لیا؛ تمہارے بحری جہازوں کو بھی دیکھ لیں گے۔"
اسی اثناء میں جمعہ (یکم مئی) غیر قانونی اور کانگریس کی اجازت کے بغیرٹرمپی یلغار کی 60 روزہ مہلت ختم ہورہی ہے۔ اگر وہ جنگ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر جاری رکھے، تو کانگریس کے اراکین ٹرمپ کے خلاف عدالتی دعویٰ دائر کریں گے۔
"جنگی اختیارات کے قانون" کے تحت، امریکی انتظامیہ کو 60 روز کے بعد جنگ جاری رکھنے کے لئے کانگریس کی منظوری کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں یہ عزم پایا جاتا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں اس کے تمام تر بحری جہازوں اور خطے میں اس کے باقیماندہ اثاثوں کو منہدم کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ