15 اپریل 2026 - 15:24
 آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، کہا-’’ایران کے ساتھ جنگ خاتمے کے قریب‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکہ بروقت مداخلت نہ کرتا تو آج ایران ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہوتا، جس سے عالمی توازن مکمل طور پر بدل جاتا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکہ بروقت مداخلت نہ کرتا تو آج ایران ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہوتا، جس سے عالمی توازن مکمل طور پر بدل جاتا۔

ٹرمپ کے مطابق، امریکی کارروائیوں نے نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھا بلکہ ایک بڑے خطرے کو بھی ٹال دیا۔ جب ان سے براہ راست پوچھا گیا کہ کیا جنگ ختم ہو چکی ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے خیال میں یہ “اختتام کے بہت قریب” ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اس تنازع کے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔

امریکہ نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب بحری ناکہ بندی (نیول بلاکیڈ) نافذ کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی بحریہ نے ایران سے منسلک جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور بعض کو روکنا شروع کر دیا، جس سے عالمی تیل سپلائی متاثر ہونے لگی۔

رپورٹس کے مطابق، ناکہ بندی کے پہلے ہی دن کئی جہازوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا جبکہ کچھ کو واپس لوٹنا پڑا۔ اگرچہ بین الاقوامی جہاز رانی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، لیکن اس اقدام نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی۔ اس کا براہ راست اثر خام تیل کی قیمتوں پر پڑا، جو 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، تاہم مذاکرات کی خبروں کے بعد قیمتوں میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی اور یہ تقریباً 95 ڈالر تک آ گئیں۔

ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہاں دکھائی دیتا ہے اور سفارت کاری کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔

انہوں نے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے فوجی قیادت، خصوصاً عاصم منیر کو سراہا اور کہا کہ ان کی کوششوں سے ہی بات چیت کا راستہ ہموار ہوا ہے۔

تاہم، گزشتہ ہفتے ہونے والی 21 گھنٹے طویل بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تھی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، جو مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

دوسری جانب ایران بھی اپنی شرائط، خاص طور پر یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے پر قائم ہے۔ اس صورتحال میں اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ مذاکرات پر مرکوز ہیں، جو اس دیرینہ تنازع کے خاتمے یا مزید شدت اختیار کرنے کا فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha