عبدالمالک ریگی کی گرفتاری سے اسلامی جمہوریۂ ایران کی انٹیلی جنس کی وزارت اور اس وزارت میں سرگرم عمل امام زمانہ (عج) کے گمنام سپاہیوں کی مہارت اور جانفشانی کی عکاسی ہوتی ہے وہیں اسے امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کے لئے ایک بڑی رسوائی سے تعبیر کیا جارہا ہے اور بعید از قیاس نہیں ہے کہ ان دونوں ایجنسیوں کے سربراہوں سے اعلی سطح پر بازپرس بھی کی جائے۔ امریکہ نے ریگي پر بہت زيادہ سرمایہ کاری کی تھی۔ پاکستان کا قومی شناخت کارڈ افغانستان کا پاسپورٹ اور دبی کا ویزه جو اس وقت اسلامی جمہوریۂ ایران کے انٹیلجنس حکام کے پاس محفوظ ہیں، امریکہ برطانیہ اور اسلامی جمہوریۂ ایران کی سلامتی پر وار کرنے کی کوشش کرنے اور دہشت گردوں کا سہارا لینے والے ملکوں کے لئے ایک انتباہ ہے ۔ریگی کی دہشتگرد تنظیم کے سرغنے کے بھائي عبدالحمید ريگي نے اگست سن 2009 کو اپنی گرفتاری کے بعد بتایا تھا کہ جنداللہ کو امریکی حکومت کی طرف سے مالی امدادملتی ہےاور یہ گروہ منشیات کی اسمگلنگ سے بھی اپنی ضروریات پوری کرتا ہے۔ عبدالحمید ریگی نے زاہدان میں صحافیوں کو بتایا کہ کوئٹہ میں امریکی کونسلیٹ اور اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں امریکی حکام سے عبدالمالک ریگي کی ملاقات میں امریکی حکومت نے اسے ہرطرح کی مدد دینے سمیت اس کی دہشت گرد کاروائيوں کو سٹیلائیٹ کوریج دینے کا وعدہ کیا تھا۔ عبدالحمید ریگي نے مزید کہا تھا کہ وہ اس گروہ کےساتھ ملکر دہشتگردی کے متعدد واقعات میں شریک ہوا ہے۔ ....................
/110