5 مارچ 2026 - 13:11
امریکہ-اسرائل کے ایران پر حملوں کی مسلم پرسنل لا بورڈ نے کی سخت مذمت، اقوام متحدہ سے کی یہ بڑی اپیل

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ امریکہ اوراسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی مشترکہ اور کھلی جارحیت کی سخت اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ بورڈ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے اور خطے کو تباہ کن جنگ سے بچائے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ امریکہ اوراسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی مشترکہ اور کھلی جارحیت کی سخت اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ بورڈ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے اور خطے کو تباہ کن جنگ سے بچائے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو چکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے مطابق ایران امریکہ کی تقریباً تمام شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان اور فوراً بعد اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مذاکرات محض ایک حربہ تھے، سنجیدہ سفارتی عمل نہیں۔

ڈاکٹرقاسم رسول الیاس نے ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پرگہرے رنج و غم کا اظہارکرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے عظیم سانحہ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی خود مختار ملک کی مرکزی قیادت کو دورانِ جنگ نشانہ بنانا اورقیادت کی تبدیلی کی کھلی بات کرنا بین الاقوامی قوانین اوراقوام متحدہ کے چارٹرکی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کوعدم استحکام کی آگ میں جھونک دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف متعدد یورپی ممالک امریکہ کی حمایت میں کھڑے ہیں، تودوسری جانب روس اورچین ایران کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ اگرفوری اورمؤثرسفارتی مداخلت نہ کی گئی تویہ تصادم وسیع عالمی جنگ کی صورت اختیارکرسکتا ہے۔ طویل جنگ نہ صرف انسانی المیے کوگہرا کرے گی بلکہ عالمی معیشت کوبھی شدید نقصان پہنچائے گی، جس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیراورکمزورممالک کو اٹھانا پڑے گا۔

انہوں نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر ہمارا ملک ایک متوازن اورباوقارثالثی کردارادا کرسکتا تھا، مگرموجودہ طرزِعمل سے ملک کی خارجہ پالیسی کی ساکھ متاثرہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہرکی کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر سرکاری سطح پر تعزیت کا اظہارنہ کیا جانا ہماری اخلاقی اور سفارتی روایت کے منافی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ایک بار پھر ملک کے حکمرانوں، اقوام متحدہ اورعالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فوری، سنجیدہ اورعملی اقدامات کے ذریعے اس جنگ کو روکے۔ بصورتِ دیگر یہ آگ کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی اور پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha