اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکا اور اسرائیل کی قیادت میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی اس جنگ کے پانچویں دن میدان جنگ کی صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ رہبرِ انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو اس تناظر میں اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس واقعے کے بعد قیادت کا خلا پیدا ہوا، تاہم ایرانی دفاعی و سکیورٹی ڈھانچے نے نہ صرف استحکام برقرار رکھا بلکہ طویل اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے تحت بھرپور جواب دیا۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے ’’وعدہ صادق 4‘‘ کے چوتھے مرحلے میں میزائل اور ڈرون صلاحیت کا نیا مظاہرہ کیا، جسے دفاعی اور جارحانہ طاقت کے امتزاج کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
مغربی حلقوں کا خیال تھا کہ کشیدگی کو محدود رکھا جائے گا اور جنگ ایران کی سرحدوں تک محدود رہے گی، تاہم ایران نے جنگ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسرائیل، دوحہ، دبئی، ریاض اور منامہ میں فوجی مراکز کو نشانہ بنایا۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ جارحوں کے لیے کوئی مقام محفوظ نہیں رہے گا۔
سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی دو روز میں 650 سے زائد امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ بحرین میں امریکی بحریہ کے مرکز پر حملے میں مزید 160 اہلکاروں کے مارے جانے یا زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک امریکی جنگی معاون جہاز کو نشانہ بنایا گیا اور چار کروز میزائل امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی جانب فائر کیے گئے، جس کے بعد اسے بحیرہ ہند کے نسبتاً محفوظ پانیوں کی طرف منتقل ہونا پڑا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ پیش رفت اس امر کی علامت ہے کہ ان کی حکمت عملی دنیا کی بڑی بحری طاقت کی کارروائیوں کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جنگ کا پانچواں روز اب محض فوجی مقابلہ نہیں بلکہ خطے میں ابھرتے نئے توازنِ قوت کا امتحان بن چکا ہے۔ خطے کی فضا میں بدستور دھواں موجود ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں جنگی منصوبہ سازوں نے اس مہم جوئی کی قیمت کا درست اندازہ لگایا تھا یا نہیں۔
آپ کا تبصرہ