19 فروری 2026 - 21:14
مآخذ: ابنا
عبری میڈیا میں رہبرِ انقلاب کے بیانات کی کوریج، سر فرست موضوعات میں شامل

صہیونی ریاست کے عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر آیت‌الله سید علی خامنه‌ای کی حالیہ تقریر کو نمایاں کوریج دی ہے۔ متعدد میڈیا اداروں نے خصوصاً اس جملے کو سرخی بنایا جس میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا تھا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی ریاست کے عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر آیت‌الله سید علی خامنه‌ای کی حالیہ تقریر کو نمایاں کوریج دی ہے۔ متعدد میڈیا اداروں نے خصوصاً اس جملے کو سرخی بنایا جس میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا تھا۔

عبرانی روزنامہ یدیعوت نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور پر رپورٹ شائع کرتے ہوئے رہبر انقلاب کے بیانات کا حوالہ دیا۔ اخبار کے مطابق ایرانی رہنما نے کہا کہ امریکہ ایران پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے، تاہم ایرانی قوم اس کا مناسب جواب دینا جانتی ہے اور موجودہ امریکی قیادت سے دوستی نہیں کرے گی۔

اسی طرح حریدی مکتب فکر سے وابستہ ویب سائٹ جے ڈی این نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایرانی رہنما نے  امریکی صدر کے بیانات کا سخت جواب دیتے ہوئے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا ذکر کیا اور کہا کہ گزشتہ 47 برسوں میں امریکہ اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے اور آئندہ بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

ایک اور ویب سایٹ  نے اپنی سرخی میں نقل کیا: “ہم طیارہ بردار بحری جہاز کو سمندر کی تہہ میں بھیج دیں گے”، اور دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت نے یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ جیسے جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا عندیہ دیا ہے۔

۱۴ چینل  نے بھی اسی موضوع کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ تہران نے امریکی بحری بیڑے کو براہِ راست خبردار کیا ہے۔

بعض رپورٹس میں رہبر انقلاب کے داخلی حالات سے متعلق بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں حالیہ بدامنی کے واقعات پر اظہار افسوس اور ہلاک ہونے والوں کی مختلف کیٹیگریز کا ذکر شامل تھا۔

عبرانی میڈیا کے تجزیوں کے مطابق یہ خطاب خطے میں جاری کشیدگی اور ایران-امریکہ تعلقات کے تناظر میں ایک اہم پیغام تصور کیا جا رہا ہے، جس نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha