اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،برطانوی خبر رساں ادارے روٹرز نے پاکستانی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان امریکا سے ایسی ضمانتیں چاہتا ہے جن کے تحت غزہ بھیجی جانے والی کسی بھی پاکستانی فورس کا کردار صرف امن مشن تک محدود ہو اور اسے حماس کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری نہ سونپی جائے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بلائے گئے غزہ امن کونسل کے پہلے باضابطہ اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں تقریباً 20 ممالک کے وفود متوقع ہیں۔
اسلام آباد کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنے دورے کے دوران کسی بھی پاکستانی فوجی دستے کی تعیناتی سے قبل مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس کے مقاصد اور اختیارات سے متعلق وضاحت طلب کریں گے۔
وزیراعظم کے قریبی ذریعے کے مطابق پاکستان اصولی طور پر غزہ میں فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے، تاہم وہ حماس کو غیر مسلح کرنے جیسے کسی کردار کا حصہ نہیں بنے گا۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشن کی نوعیت واضح ہونے کے بعد چند ہزار پاکستانی فوجی غزہ بھیجے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے میں مسلم اکثریتی ممالک پر مشتمل ایک فورس کی تشکیل شامل ہے جو غزہ میں عبوری دور کے دوران تعمیر نو اور معاشی بحالی کی نگرانی کرے گی۔ متوقع اجلاس میں اربوں ڈالر کے تعمیر نو منصوبے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں امن استحکام فورس کے قیام کی تفصیلات پیش کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین کے رکن ممالک میں تقسیم کی گئی ایک دستاویز کے مطابق یونین غزہ میں قائم عبوری حکومتی ڈھانچوں سے رابطے میں ہے اور جنوری کے وسط میں قائم ہونے والی قومی انتظامی کمیٹی کی حمایت پر غور کر رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق اگر پاکستان کی شرکت کی منظوری دی جاتی ہے تو انسداد شورش اور امن مشنز میں اس کی فوج کے تجربے کے باعث غزہ میں مجوزہ کثیرالقومی فورس کو تقویت مل سکتی ہے۔
تاہم بین الاقوامی سطح پر اس امن کونسل کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض مغربی ممالک نے کونسل کے وسیع اختیارات اور امریکی صدر کے ویٹو اختیار کے باعث اس میں شمولیت سے گریز کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ