اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد میں ایران کے وزیر زراعت نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان باہمی تجارت کے طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہیں، اور دونوں ممالک دو سال سے کم مدت میں مطلوبہ تجارتی سطح تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
پاکستان کے وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر نے بتایا کہ ان کا حالیہ دورہ پاکستان، پاکستانی ہم منصب کی دعوت پر عمل میں آیا، جس کا مقصد ایرانی صدر کے دورۂ اسلام آباد کے دوران طے پانے والے معاہدوں اور بعد ازاں تہران میں ہونے والی بات چیت پر پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔ ان معاہدوں میں باہمی تجارت، زرعی اجناس، تحقیقی تعاون اور زرعی شعبے سے متعلق دیگر امور شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے مختلف علاقائی معاملات پر جو مؤقف اختیار کیا اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، اس سے دونوں ممالک کے درمیان ہمسائیگی، دوستی اور برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایران بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور گہرائی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے، یہاں تک کہ سرحدی صوبوں کو پاکستانی سرحدی علاقوں کے ساتھ براہِ راست روابط بڑھانے کا اختیار دیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر نے بتایا کہ آج کی ملاقات میں دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافے کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے، جن میں سے کئی پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے جبکہ باقی نکات کو جلد عملی شکل دینے پر اتفاق ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں اسلام آباد میں تکنیکی اور عملی سطح کے مزید اجلاس بھی منعقد ہوں گے تاکہ طے شدہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر نے کہا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ گہرے اور تاریخی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک زرعی شعبے میں ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ تجارت کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے باہمی مفاد پر مبنی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ روابط کی رفتار مزید تیز کی جائے گی اور دونوں ممالک مطلوبہ سطح کی شراکت داری حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
انہوں نے اپنے حالیہ دورۂ ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ایرانی ہم منصب کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے مربوط اور ہم آہنگ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
آپ کا تبصرہ