بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || حال ہی میں شائع ہونے والی خفیہ نئی دستاویزات سے معلوم ہؤا ہے کہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اپنے جرائم کا شکار کچھ کم سن بچیوں کو ایک رہائشی عمارت میں رکھتا تھا، جو نیویارک کے اپر ایسٹ سائڈ محلے میں اس کی پرتعیش حویلی سے صرف 10 گلیوں کے فاصلے پر تھی۔
اخبار نیویارک پوسٹ اخبار کی رپورٹ کے مطابق، یہ عمارت نیویارک میں 301 مشرقی گلی اسٹریٹ نمبر 66 میں واقع ہے۔ یہ 16 منزلہ عمارت ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد فرسٹ اور سیکنڈ ایونیو کے درمیان تعمیر کی گئی تھی اور اس میں 24 گھنٹے سیکیورٹی موجود رہتی ہے۔ اخبار کے مطابق، یہ عمارت دیگر خفیہ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھی۔
دستاویزات کے مطابق، یہ عمارت عملاً ایپسٹین کی سرگرمیوں کے لئے معاونت اور رابطہ مرکز کے طور پر کام کرتی تھی۔
درج شدہ شکایات اور رجسٹرڈ گواہیوں کے مطابق، یہ جگہ ان نوعمر لڑکیوں کی رہائش کے لئے مختص تھی جن کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا اور انہیں اسمگل کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ، 12 سے زائد اپارٹمنٹس صاحب ثروت مہمانوں، معروف غیر ملکی شخصیات اور ایپسٹین کے ملازمین کو دیئے گئے تھے۔
یہ اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک اور طبی ماہر اور صحت کے شعبے سے وابستہ پیٹر عطیہ جیسے مشہور ناموں کی موجودگی اس قیاس کو تقویت دیتی ہے کہ عمارت نمبر 301 کسی نہ کسی طرح ایپسٹین کی مرکزی رہائش گاہ سے علیحدہ ایک "خفیہ منسلکہ [عمارت]" تھی۔
حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ای میلز ـ خاص طور پر نوعمر بچیوں کی رہائش کے طریقے کے بارے میں ـ اس معاملے کے مزید تشویشناک پہلوؤں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ ایپسٹین کی ایڈریس بک میں، کچھ یونٹس کو ماڈلز اپارٹمنٹس کے عنوان سے معین کیا گیا تھا۔
2022 میں ایک متاثرہ لڑکی نے عدالت میں بتایا کہ اسے کس طرح اس عمارت میں منتقل کیا گیا اور ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رکھا گیا جہاں معمولی سہولیات تھیں۔ اس نے کہا: مجھے اپارٹمنٹ اچھی طرح یاد ہے، یہ نسبتاً چھوٹا تھا۔ فریج میں دہی تھا اور میز پر پھلوں کی ٹوکری اور بسکٹ رکھے تھے۔
اس کے مطابق، یہ سب توجہ اور دیکھ بھال کا ظاہری انداز پیدا کرنے کے لئے کیا جاتا تھا، اس سے پہلے کہ اسے تقریباً 9 گلیاں چھوڑ کر ایپسٹین کو مساج دینے کے لئے اس کے گھر لے جایا جائے!
اس متاثرہ لڑکی نے کہا: "مجھے لگتا تھا کہ میں بہت خاص ہوں۔ یہ دھوکے کا حصہ تھا، وہ دکھاوا کرتے تھے کہ وہ ہمارا خیال رکھتے ہیں اور ہماری ضروریات پوری کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اپنی طرف متوجہ کرانے اور پھنسانے کے لئے تھا۔"
سنہ 2015 کے ایک سول کیس کے دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ایپسٹین کے 301 نمبر پر واقع کئی اپارٹمنٹس نوجوان ماڈلز کی رہائش کے لئے استعمال ہوتے تھے جنہیں کام کا جھانسہ دے کر بیرون ملک سے لایا جاتا تھا۔ درج شدہ بیانات کے مطابق، ان لڑکیوں کے لئے ویزے کا بندوبست کیا جاتا تھا اور ان سے کرایہ وصول کیا جاتا تھا۔
ایک شکایت میں بتایا گیا ہے کہ ایپسٹین نے کچھ متاثرین کو اس عمارت میں گھر، گاڑی اور کچھ دیگر سہولیات دینے کا وعدہ کیا تھا تاکہ انہیں "جنسی اطاعت" پر آمادہ کیا جا سکے۔
2015 کے ایک پیغام میں، ایپسٹین کے ایک ساتھی نے لکھا تھا کہ ایک نوجوان خاتون نے پوچھا تھا کہ "کون سا اپارٹمنٹ اس کا ہو سکتا ہے" اور اس نے کئی آپشنز بتائے تھے، نیز یہ بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ ایک اور یونٹ کی مرمت ہو رہی ہے۔ اسی پیغام میں صراحتاً پوچھا گیا تھا: کہ "وہ کون سا اپارٹمنٹ اپنے گھر کے طور پر منتخب کرنا چاہتی ہے؟"
ای میلز یہ بھی نمایاں کرتی ہیں کہ ایپسٹین کا ڈرائیور ـ جس نے "جوجو" کا عرفی نام اختیار کیا تھا ـ صبح 8:15 بجے عمارت سے نوعمر لڑکیوں کو لینے اور 8:30 بجے تک 71 ویں اسٹریٹ والے گھر پہنچانے کا ذمہ دار تھا۔ ایک اور پیغام میں جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر ایک نوعمر لڑکی کے آنے کے انتظار اور اسے قیام کے لئے عمارت 301 میں منتقل کرنے اور پھر ایپسٹین کے گھر لے جانے کا تذکرہ ہے۔
ای میلز یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ مختلف افراد نے مختصر مدت کے لئے اس عمارت میں قیام کیا یا مہمان رہے، جن میں ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ 'جین لوک برونل' (Jean-Luc Brunel) سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک، اسرائیل کے سابق جاسوس 'یونی کورین' (Yoni Koren) مشہور امریکی - کینیڈین طبیعیات دان لارنس کراس، (Lawrence Cross) ریاضی اور ارتقائی حیاتیات کے ممتاز پروفیسر مارٹن نوواک (Martin Andreas Nowak)، امریکی - کینیڈین ڈاکٹر 'پیٹر عطیہ' (Peter Attia) اور امریکی صدر کے سابق مشیر 'اسٹیو بینن' (Stephen Kevin Bannon)، شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: رضا دہقانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ