پاکستان کے دارالحکومت میں شیعہ برادری کی بڑی احتجاجی ریلی، دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
پاکستان کے دارالحکومت میں مختلف شیعہ جماعتوں اور گروہوں کے کارکنوں نے اسلام آباد میں احتجاجی ریلی نکالی اور دہشت گرد عناصر خصوصاً گزشتہ ہفتے حضرت خدیجہ (س) مسجد پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے اور حملوں میں ملوث افراد کی شناخت کر کے انہیں سزا دے۔
جمعہ کی نماز کے بعد سیکڑوں شیعہ کارکنوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین، امت وحدہ، جامعہ الکوثر اور حسینیہ اثنی عشری کے عہدیدار اور حملے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔
مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے اثرات ملک میں امن اور رواداری کے لیے خطرہ ہیں۔ علامہ ناصر عباس جعفری، صدر مجلس وحدت مسلمین اور اپوزیشن کے رہنما، نے سکیورٹی اداروں کی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی شناخت اور تکفیری گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں اتحاد ایک قومی ضرورت ہے اور دشمنوں کے سامنے کبھی پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔ ساتھ ہی حکومت اور فوج پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور فرقہ وارانہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
شیعہ جماعتوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے اور فوری کارروائی نہ کی گئی تو آج کی ریلی ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد میں ایک خودکش حملے میں کم از کم ۳۶ شیعہ نمازی شہید اور ۱۰۰ سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش داعش نے قبول کی تھی۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے متاثرہ مسجد کا دورہ کر کے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں سے ملاقات کی، اور یقین دلایا کہ پاکستان عوام اور مسلح افواج کی حمایت سے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ جاری رکھے گا۔
آپ کا تبصرہ