5 فروری 2026 - 17:37
ایران کی میزائل طاقت نے ٹرمپ کو احتیاط برتنے پر مجبور کر دیا، ہشام الحلبی

مصری خارجہ امور کی کونسل کے ایک رکن نے، تہران اور واشنگٹن کے درمیان تازہ ترین کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایران کی میزائل صلاحیت فوجی تصادم کی طرف جانے میں امریکیوں کی احتیاط کا اہم ترین عنصر تھا / آنے والی بات چیت تناؤ پر قابو پانے کی کوشش ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی اطلاعات کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے مسقط میں مذاکرات کی بات چیتوں کے انعقاد کی تصدیق کی ہے۔ اسی اثناء میں ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی دھمکیاں جاری ہیں۔ دوسری طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران نے بھرپور دفاعی تیاریوں کے اعلان کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے راستے استعمال کرنے کا بھی اظہار کیا ہے۔

مصری اعلیٰ فوجی اسٹراٹیجک مطالعات کی اکیڈمی کے مشیر، ہشام الحلبی نے مذاکرات کو جنگ روکنے کے لئے، مثبت اقدام قرار دیا۔

انھوں نے زور دے کر کہا: "دونوں فریق تناؤ کو بڑھنے سے روکنے کے مقصد سے مذاکراتی عمل میں داخل ہوئے ہیں۔"

ہشام الحلبی نے کہا: "پچھلے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے، امریکہ کی طرف سے ممکنہ معاہدوں کی مکمل  پابندی کے حوالے سے، یہ مسئلہ ایران کے لئے بہت حساس اور احتیاط طلب ہے۔"

الحلبی نے کہا: "ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے بعد گہرے اختلافات پیدا ہوئے جو ان کے درمیان عدم اعتماد کا سبب بنے، اور یہ عدم اعتماد مذاکرات کے بنیادی نتائج کے حصول رکاوٹ بن سکتا ہے۔ تاہم، بات چیت کا تسلسل تناؤ کی شدت کو کم کر سکتا ہے، اگرچہ اس عمل کو مضبوط بنانے کے لئے ایک عرصہ درکار ہوگا۔"

اسرائیل کا کردار اور جنگ پھیلنے سے خطے کے ممالک کی فکرمندی

تزویراتی امور کے اس تجزیہ کار نے اسرائیل کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ "تل ابیب ایران اور امریکہ کے درمیان کسی معاہدے کو پسند نہیں کرتا اور اس کی خواہش ہے کہ ایران پر فوجی دباؤ برقرار رہے۔"

الحلبی نے کہا: "اسرائیلیوں کے جارحانہ اور امن شکن عزائم کے باوجود، مذاکرات سے پہلے یا اس کے دوران اسرائیلی فوجی کارروائی کا امکان بہت کم ہے؛ اور میرا خیال ہے کہ امریکہ اس موقع پر تناؤ بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرے گا!"

حلبی نے خبردار کرتے ہوئے کہا: "ایران اور امریکہ کے درمیان دھمکیوں کا تبادلہ سنجیدگی سے لینا چاہئے، کیونکہ دونوں فریقوں کے اختلافات کی نوعیت بنیادی اور تزویراتی ہے۔"

انھوں نے زور دے کر کہا: "دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی جنگ سے نہ صرف فریقین کو انسانی اور معاشی نقصانات کا سامنا ہوگا بلکہ خطے کے ممالک کے لئے بھی اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے؛ اسی وجہ سے، خطے کی حکومتیں ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے بحران کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔"

ایران کی میزائل صلاحیت سے امریکہ کی تشویش

الحلبی نے کہا: "امریکہ کی طرف سے فوجی دھمکیوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ دباؤ کے ذریعے، ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے اور یہی بات کسی بھی جنگی کاروائی میں تاخیر کا سبب بھی ہے۔ یہ "دہانہ گیری کی پالیسی" کی ایک مثال ہے۔ [1]

الحلبی نے زور دے کر کہا: "ایران کی میزائل صلاحیت اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ وہ کسی حملے کی صورت میں مؤثر جواب دے سکتا ہے۔ یہی امر امریکہ کی ایران کے ساتھ فوجی مقابلے میں احتیاط کی ایک اہم وجہ ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 


[1]۔ 1۔ دہانہ گیری کی پالیسی (Brinkmanship policy) مخالف فریق کو میدان سے ہٹانے کی غرض سے 'خطرہ قبول کرنے کی پالیسی'، 'جنگ کے دہانے تک جانے' کی پالیسی؛ اس پالیسی میں دہانے سے واپسی کا راستہ بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha